بلوچستان بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن میں نگران وزیر تعلیم بلوچستان ڈاکٹر قادربخش بلوچ کی صدارت میں اعلی سطحی اجلاس

منگل 12 ستمبر 2023 22:49

کوئٹہ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 12 ستمبر2023ء) بلوچستان میں امتحانی عمل میں طالب علموں کی صلاحیتوں کا جائزہ لینے کیلئے امتحانات میں سوالیہ پرچوں کی تشکیل کے رائج الوقت روایتی طریقہ کو بتدریج تبدیل کرکے اسٹوڈنٹس لرننگ آٹ کمز پر لے جانے کا فیصلہ کیا گیا ہے منگل کو بلوچستان بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن میں نگران وزیر تعلیم بلوچستان ڈاکٹر قادر بخش بلوچ کی صدارت میں اعلی سطحی اجلاس منعقد ہوا جس میں سیکرٹریز تعلیم ، چئیرمین بلوچستان بورڈ اعجاز عظیم بلوچ ، ڈائریکٹرز اسکولز و کالجز ، ڈائریکٹر بی او سی ، سمیت متعلقہ حکام نے شرکت کی اجلاس میں مختلف تجاویز زیر غور آئیں اور فیصلہ کیا گیا کہ ابتدائی مرحلے میں جماعت نہم کے دو سبجیکٹ کیمسٹری اور فزکس جبکہ فرسٹ ائیر کے تین سبجیکٹ کیمسٹری ، فزکس اور انگلش کو ایس ایل او طریقہ سوالات پر منتقل کیا جائے گا اس نئے جائزہ نظام کے نفاذ کے لیے آئی بی بی سی پچیس سے تیس اساتذہ کی آغا خان تعلیمی بورڈز سے تربیت کا اہتمام کرے گا جبکہ پی پی آئی یو بلوچستان اساتذہ کی تربیت کے لئے جامع حکمت عملی کے تحت کام کرے گا ڈائریکٹر اسکولز اور کالجز اس نئے جائزہ نظام کے لئے اسٹاف اور اساتذہ کی تربیت کے لیے مربوط اقدامات اٹھائیں گے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے نگران صوبائی وزیر تعلیم ڈاکٹر قادر بخش بلوچ نے کہا کہ بلوچستان میں سرکاری سطح پر معیاری تعلیم کے فروغ کے لئے جن اصلاحات کا عمل شروع کیا گیا ہے اس کو مختصر مدت میں عملی جامہ پہنایا جائے گا جس کے نتائج معیاری شرح خواندگی کی صورت میں سامنے آئیں گے ڈاکٹر قادر بخش بلوچ نے کہا کہ ایس ایل او طریقہ سوالات کے تحت ہر طالب علم کی قابلیت کا بہتر طور پر جائزہ لیا جاسکے گا اس سے قبل جو روایتی طریقہ چلا آرہا ہے اس سے انفرادی قابلیت نہیں بلکہ اجتماعی نتائج اخذ کئے جاتے ہیں انہوں نے کہا بلوچستان سے تعلیمی پسماندگی کے خاتمے کے لئے محکمہ تعلیم کے تمام ڈائریکٹوریٹس اور اسٹیک ہولڈرز کی جانب سے کثیر الجہتی اقدامات بار آور ثابت ہوں گے اجلاس میں چیئرمین بلوچستان بورڈ آف انٹر میڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن اعجاز عظیم بلوچ نے بورڈ کے موجودہ طریقہ امتحانات اور اصلاحات سے متعلق اٹھائے جانے والے اقدامات پر روشنی ڈالی اور مستقبل میں مجوزہ ایس ایل او کے حوالے سے بورڈ کی استعداد کار اور حکمت عملی پر روشنی ڈالی ۔

متعلقہ عنوان :