اطالوی وزیرِاعظم جارجیا میلونی کی ایڈٹ شدہ تصاویر وائرل، ردعمل سامنے آگیا

ہفتہ 30 اگست 2025 14:18

اطالوی وزیرِاعظم جارجیا میلونی کی ایڈٹ شدہ تصاویر وائرل، ردعمل سامنے ..
روم (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 30 اگست2025ء)اٹلی کی وزیرِاعظم جارجیا میلونی نے اپنی اور دیگر مشہور خواتین کی ایڈٹ شدہ قابلِ اعتراض تصاویر اور ویڈیوز فحش ویب سائٹ پر شائع ہونے پر شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس عمل کو افسوسناک اور خواتین کی تذلیل قرار دیا۔امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق وزیرِاعظم سمیت متعدد سیاستدان خواتین اور معروف شخصیات کی جعلی تصاویر اور ویڈیوز کو ایک ویب سائٹ پر شیئر کیا گیا جہاں نہ صرف انہیں مسخ شدہ انداز میں پیش کیا گیا بلکہ جنسی اور توہین آمیز جملے بھی درج کیے گئے تھے۔

یہ مواد فیکا (Phica) نامی پلیٹ فارم پر اپ لوڈ کیا گیا تھا، جس کا نام اطالوی زبان کے ایک فحش لفظ سے اخذ کیا گیا ہے۔شدید عوامی ردِعمل کے بعد مذکورہ ویب سائٹ بند کردی گئی۔

(جاری ہے)

تاہم منتظمین نے مقف اختیار کیا کہ یہ تصاویر اور ویڈیوز ان کے اپنے نہیں بلکہ لاکھوں صارفین نے سوشل میڈیا سمیت مختلف ذرائع سے تصاویر اکٹھی کرکے انہیں توہین آمیز شکل میں شائع کیا۔

اطلاعات کے مطابق ویب سائٹ پر وزیرِاعظم جارجیا میلونی کی بہن اور حکمران جماعت برادرز آف اٹلی کی اہم رہنما آریانا میلونی کی تصاویر بھی موجود تھیں۔ ان کے علاوہ کئی اور سیاستدان اور شوبز سے تعلق رکھنے والی خواتین بھی اس فہرست کا حصہ تھیں۔جارجیا میلونی نے اطالوی اخبار سے گفتگو میں کہا کہ وہ اس واقعے پر شدید برہم ہیں اور ان کی تمام تر ہمدردیاں ان خواتین کے ساتھ ہیں جنہیں اس عمل سے بدنام اور ذلیل کیا گیا۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی تکلیف دہ ہے کہ 2025 میں بھی عورت کی عزت پامال کرنا اور اس پر جنسی جملے کسنا بعض افراد معمول سمجھتے ہیں۔وزیرِاعظم نے مزید کہا کہ یہ معاملہ اب صرف ریوینج پورن تک محدود نہیں رہا بلکہ پرائیویسی اور ڈیٹا کے تحفظ کی ضرورت ماضی کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑھ چکی ہے۔ یاد رہے کہ اٹلی میں 2019 سے ریوینج پورن کے خلاف قانون نافذ ہے، جس کے تحت اس قسم کے جرائم پر چھ سال تک قید کی سزا دی جا سکتی ہے۔

یہ پہلا موقع نہیں کہ جارجیا میلونی نے خواتین کے مسائل پر آواز بلند کی ہو۔ وہ پہلے بھی ڈیپ فیک پورنوگرافی، گھریلو تشدد اور عورتوں کے خلاف جرائم کے خلاف سخت مقف رکھتی آئی ہیں۔ اس تازہ اسکینڈل نے ایک بار پھر اٹلی میں خواتین کے حقوق اور نسوانی تحریک کے موضوع پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔یہ واقعہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب حال ہی میں ایک اطالوی فیس بک گروپ بند کیا گیا تھا، جہاں ہزاروں مرد خواتین کی نجی تصاویر بغیر اجازت شیئر کر رہے تھے۔ اس گروپ کو بھی عوامی دبا اور پولیس شکایات کے باعث ختم کیا گیا۔