بچوں کی پرورش سماجی فریضہ قرار،عالمی ماہرین کا اے کے یو کانفرنس میں اعلان

مستقبل پارلیمانوں یا کارخانوں میں نہیں بنتا بلکہ ان محفوظ، پرورش یافتہ اور روشن فضاوں میں بنتا ہے ،سید سردار شاہ

بدھ 15 اکتوبر 2025 21:00

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 15 اکتوبر2025ء) نئی نسل کے مستقبل کے تحفظ اور تشکیل کے حوالے سے ایک اہم عالمی مکالمہ بدھ کوکراچی میں شروع ہوا جہاں آغا خان یونیورسٹی کے انسٹی ٹیوٹ فار ایجوکیشنل ڈیولپمنٹ (IED) کے زیرِ اہتمام 13ویں بین الاقوامی کانفرنس Raising Children in Our Times کا افتتاح کیا گیا۔مہمانِ خصوصی سید سردار علی شاہ، وزیر تعلیم و ثقافت سندھ نے بچوں کی درست پرورش کو ہمارے دور کا بنیادی چیلنج قرار دیا۔

اورکہا کہ مستقبل پارلیمانوں یا کارخانوں میں نہیں بنتا بلکہ ان محفوظ، پرورش یافتہ اور روشن فضاوں میں بنتا ہے جو ہم آج اپنے بچوں کے لیے تخلیق کرتے ہیں۔یہ احساسِ ضرورت ڈاکٹر فرید پنجوانی، ڈین IED نے بھی دہرایاانہوں نے کہا، ہم اکثر بچوں کی پرورش کی ذمہ داری صرف والدین پر ڈال دیتے ہیں، جیسے یہ کوئی ذاتی یا انفرادی فریضہ ہو۔

(جاری ہے)

اس سے ایک بڑا سوال پیدا ہوتا ہے ہم اپنے بچوں کو کس دنیا میں پروان چڑھا رہے ہیں میڈیاکارپوریشنز اور ریاست کی اس میں کیا ذمہ داری ہی انہوں نے امید ظاہر کی کہ کانفرنس کی یہ گفتگو اس خیال کو ازسرِ نو زندہ کرے گی کہ بچوں کی پرورش دراصل ایک سماجی عمل ہے۔

ابتدائی مکالموں میں اس ذمہ داری کے اخلاقی پہلووں پر بھی روشنی ڈالی گئی خصوصا موجودہ عالمی چیلنجز جیسے عدم مساوات، ڈیجیٹل دبااور ماحولیاتی بے چینی کے تناظر میں۔ ڈاکٹر لن وولبرٹ، ایسوسی ایٹ پروفیسر، فری یونیورسٹی ایمسٹرڈیم نے اپنے کلیدی خطاب میں کہا کہ جب انسان خود دنیا کے بیشتر مسائل کا سبب بن چکا ہے تو وہ کس طرح بہتر انسانوں کی پرورش کا دعوی کر سکتا ہی پہلے دن کے سیشنز میں زمینی مسائل پر براہِ راست بات کی گئی۔

Raising Resilient Learners in a Digital and Divided World کے عنوان سے ایک پراثر پینل ڈسکشن میں ہارون یاسین(سی ای او تعلیم آباد)اور برون وین میک گراتھ(گلوبل پروگرام مینیجر، آغا خان فانڈیشن)نے تعلیم اور خاندانی نظام کے ذریعے بچوں میں لچک، ہمدردی، اور تنقیدی سوچ پیدا کرنے کے عملی طریقوں پر گفتگو کی۔اس کے بعد پینل Beyond Survival: Shaping Safe and Supportive Spaces for the Modern Child میں بچوں کے لیے محفوظ اور جامع ماحول کی ضرورت پر بات کی گئی، جس میں عمیر احمد،سی ای او NOWPDP))، معروف ماہرِ تعلیم ڈاکٹر محمود مغل، ڈاکٹر نرگس اسد (انٹرم چیئر، ڈیپارٹمنٹ آف سائیکاٹری)اور ڈاکٹر فوزیہ پروین(ماحولیاتی سائنسدان، اے کے یو)نے شرکت کی۔

آگے بڑھتے ہوئے، کانفرنس کا محور فلسفیانہ سوال کیوں سے عملی پہلوکیسے کی طرف منتقل ہوگا، جس کا مقصد عملی راہیں اور عملی منصوبہ بندی کا خاکہ تیار کرنا ہے۔مباحثوں میں جدید دور کے بچپن کو تشکیل دینے والے مختلف پہلوں کا جائزہ لیا جائے گا، جن کا آغاز ابتدائی بچپن کی تعلیم اور نگہداشت کے جدید ماڈلز سے کیا جائے گا۔مزید سیشنز میں معاشی تفاوت کی تلخ حقیقتوں پر بات کی جائے گی، ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت (AI) اور میڈیا کے دو دھاری اثرات کو سمجھنے کی کوشش کی جائے گی، جبکہ ذہنی صحت اور فلاح و بہبود کے تحفظ اور اخلاقی تربیت کے فروغ کی اہمیت پر بھی زور دیا جائے گا۔

بالآخر، کانفرنس کا مقصد شمولیت کی فوری ضرورت کو اجاگر کرنا اور ان بنیادی صلاحیتوں اور رویوں کو ازسرِ نو متعین کرنا ہے جو زندگی بھر سیکھنے اور تبدیلی کے مطابق ڈھلنے کے لیے ضروری ہیں۔ اس موقع پر فن، انسانی علوم اور تخیل کے کلیدی کردار پر خصوصی زور دیا گیا۔