گاجر بوٹی مختلف زرعی اجناس کی فصلات کیلئے خطرہ بن گئی،فوری تدارک ضروری ،ماہرین زراعت

پیر 10 نومبر 2025 13:23

فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 10 نومبر2025ء) گاجر بوٹی مختلف زرعی اجناس کی فصلات کیلئے خطرہ بن گئی ہے لہٰذااگر فصلات میں قبضہ مافیا کے طور پر پنجے گاڑنے والی گاجر بوٹی کا فوری تدارک نہ کیا گیا تو یہ قومی ترقی کی شرح نمو میں کمی کا باعث بنے گی جبکہ گاجر بوٹی سے ملک کی دیہی و شہری آبادی میں الرجی،خارش،دمہ اور چنبل کی بیماریوں میں اضافہ کا بھی خدشہ ہے اسلئے ماہرین زراعت اس کے مؤ ثر انسداد کیلئے کوشاں ہیں۔

ماہرین زراعت نے کہا کہ لوگ بہترین تنظیم سازی کے ذریعے گاجر بوٹی کے پائیدار و مؤ ثر خاتمے کے حوالے سے ایسا ماڈل بنائیں کہ جس کی دوسرے اضلاع اور دیہاتوں میں مثال دی جا سکے۔انہوں نے بتایا کہ ماہرین تحقیقاتی لیبارٹریوں سے نکل کر کاشتکاروں تک پہنچ رہے ہیں تاکہ اپنے علم و مشاہدے کی بنیاد پر سامنے آنیوالی ٹیکنالوجی کو کسانوں تک پہنچایا جا سکے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ دوسری مقامی جڑی بوٹیوں کے مقابلے میں گاجر بوٹی بھرپور قوت مدافعت کی حامل ہے جوکم وقت میں پروان چڑھتے ہوئے تیزی سے پھیل رہی ہے جس سے جانوروں کے ساتھ ساتھ انسانی صحت کو بھی نئے چیلنجز کا سامنا ہے۔انہوں نے بتایا کہ حالیہ برسوں کے دران اسلام آباد کے الرجی سینٹر کے ساتھ ساتھ شہر کے الائیڈ ہسپتال میں الرجی، خارش کے مریضو ں کی تعداد میں اضافہ نوٹ کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آسٹریلیا نے اس کے مؤ ثر تدارک کیلئے ایسے کیڑے متعارف کروائے ہیں جو اس بوٹی کو کم وقت میں کھا کر ختم کر دیتے ہیں لیکن وہ سال میں صرف دو ماہ یہ کام کرپاتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ بھارت سے ہوا کے ذریعے ایسے کیڑے پاکستان میں بھی داخل ہوچکے ہیں جو اس کے خاتمے کیلئے بڑے مؤ ثر ہوسکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ گاجر بوٹی جانوروں کیلئے زہریلے اثرات رکھتی ہے کیونکہ اس میں پائے جانیوالے زہریلے مادے جانوروں کے منہ پر الرجی اور بھوک کو کم کردیتے ہیں جس سے جانوروں کے دودھ اور گوشت کی کوالٹی متاثر ہوتی ہے۔

انہوں نے گاجر بوٹی کے خاتمے کیلئے بھرپور کردار ادا کرنے اور اس پیغام کو گاؤں گاؤں،دیہات دیہات، قصبہ قصبہ، نگر نگر، شہر شہر، گلی گلی تک لیجانے کے عزم کا بھی اظہار کیا۔