اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 19 جنوری 2026ء) اسپین کے وزیر ٹرانسپورٹ اوسکر پوانتے نے اتوار اور پیر کی درمیانی شب بتایا کہ ہلاکتوں کی تعداد 21 ہو گئی ہے۔ امدادی کارکنوں نے تمام زندہ بچ جانے والوں کو ٹرین کے ملبے سے نکال لیا ہے، تاہم کہا کہ ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ ہے۔
اندلس کے علاقائی انتظامیہ کے مطابق 75 مسافروں کو ہسپتال میں داخل کرایا گیا جبکہ زیادہ تر کو قریبی شہر قرطبہ منتقل کیا گیا ہے۔
ان میں 15 افراد کی حالت تشویشناک ہے۔پوانتے نے کہا کہ حادثے کی وجہ ابھی معلوم نہیں ہو سکی۔ انہوں نے اسے ''واقعی عجیب‘‘ حادثہ قرار دیا، کیونکہ یہ ایک ہموار ٹریک پر پیش آیا تھا، جس کی مرمت گزشتہ برس مئی میں ہی کی گئی تھی۔ پٹری سے اترنے والی ٹرین چار سال سے بھی کم پرانی تھی اور نجی کمپنی اِریو کی ملکیت تھی جبکہ دوسری ٹرین، جسے زیادہ نقصان پہنچا، اسپین کی سرکاری کمپنی رینفے کی تھی۔
(جاری ہے)
پوانتے کے مطابق پہلی ٹرین کا پچھلا حصہ پٹری سے اتر کر دوسری ٹرین کے اگلے حصے سے ٹکرا گیا، جس کے نتیجے میں رینفے ٹرین کے پہلے دو ڈبے پٹری سے اتر کر تقریباً 13 فٹ نیچے جا گرے۔ انہوں نے کہا کہ سب سے زیادہ نقصان رینفے ٹرین کے اگلے حصے کو پہنچا۔
حادثے کی وجوہات پر تحقیقات سے متعلق ایک سوال پر انہوں نے کہا کہ اس میں ایک ماہ لگ سکتا ہے۔
اس حادثے کے بارے میں ہم اور کیا جانتے ہیں
قرطبہ کے فائر فائٹر چیف فرانسسکو کارمونا نے قومی ریڈیو آر این ای کو بتایا کہ ایک ٹرین بری طرح تباہ ہو چکی تھی اور کم از کم چار بوگیاں پٹڑی سے اتر گئی تھیں۔ یہ حادثہ ایک دشوار گزار علاقے میں ہوا۔ انہوں نے کہا کہ مقامی لوگ متاثرین کی مدد کے لیے کمبل اور پانی لے کر جائے حادثہ پر پہنچے۔
اسپین کی فوج کی ہنگامی امدادی یونٹس بھی دیگر ریسکیو ٹیموں کے ساتھ کارروائی میں شامل ہو گئیں، جبکہ ریڈ کراس نے طبی عملے کو معاونت فراہم کی۔ ریڈ کراس نے حادثے کے مقام کے قریب ایک امدادی مرکز بھی قائم کیا ہے تاکہ ایمرجنسی سروسز اور معلومات کے متلاشی افراد کی مدد کی جا سکے۔
اظہار تعزیت
اسپین کے وزیراعظم پیدرو سانچیز نے ایکس پر لکھا، ''آج رات ہمارے ملک کے لیے انتہائی غم کی رات ہے۔
میں متاثرین کے اہلِ خانہ اور عزیزوں سے دلی تعزیت کا اظہار کرتا ہوں۔‘‘ اسپین کے بادشاہ فیلیپے ششم اور ملکہ نے بھی سوشل میڈیا پر تعزیت اور تشویش کا اظہار کیا۔یورپی کمیشن کی صدر ارزولا فان ڈیر لائن نے ایکس پر لکھا کہ وہ قرطبہ سے آنے والی ''ہولناک خبروں‘‘ پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ انہوں نے ہسپانوی زبان میں لکھا، ''آج رات میں آپ سب کے بارے میں ہی سوچ رہی ہوں۔
‘‘اسپین یورپ میں تیز رفتار ٹرینوں میں سرفہرست
یورپی یونین
کے مطابق اسپین کے پاس یورپ کا سب سے بڑا ہائی اسپیڈ ریل نیٹ ورک ہے، جہاں 250 کلومیٹر فی گھنٹہ سے زیادہ رفتار والی ٹرینوں کے لیے 3,100 کلومیٹر سے زائد ٹریک موجود ہے۔یہ نیٹ ورک سفر کا ایک مقبول، سستا اور محفوظ ذریعہ ہے۔ رینفے کے مطابق 2024 میں اس کی ہائی اسپیڈ ٹرینوں میں 2 کروڑ 50 لاکھ سے زیادہ مسافروں نے سفر کیا۔
اس صدی کا اسپین کا بدترین ٹرین حادثہ 2013 میں پیش آیا تھا، جب ملک کے شمال مغرب میں ایک ٹرین کے پٹری سے اترنے سے 80 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ تحقیقات میں سامنے آیا تھا کہ ٹرین جب پٹری سے اتری، اس وقت وہ 80 کلومیٹر فی گھنٹہ کی حد والے حصے پر 179 کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے چل رہی تھی۔
ادارت: عدنان اسحاق