عمران خان کی صحت پر ابہام ختم کرنا ریاست اور وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے

اگرعمران خان کی آنکھ کا آپریشن کرنا پڑا تو مطلب جیل میں غیرانسانی سلوک ہو رہا ہے، عمران خان کو ڈاکٹرز اور فیملی تک رسائی نہ دینا آئین قانون کی خلاف ورزی ہے، وزیراعلی محمد سہیل آفریدی

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ بدھ 11 فروری 2026 20:21

عمران خان کی صحت پر ابہام ختم کرنا ریاست اور وفاقی حکومت کی ذمہ داری ..
پشاور ( اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین ۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 11 فروری 2026ء ) وزیراعلی خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ عمران خان کی صحت پر ابہام ختم کرنا ریاست اور وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے، اگرعمران خان کی آنکھ کا آپریشن کرنا پڑا تو مطلب جیل میں غیرانسانی سلوک ہو رہا ہے۔ تفصیلات کے مطابق وزیراعلی خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی نے صوبائی کابینہ کے 47ویں اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان کی صحت سے متعلق حقائق چھپانا اور ڈاکٹرز و اہل خانہ سے ملاقات نہ کرانا آئین اور بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے، عمران خان کو ڈاکٹرز اور فیملی تک رسائی نہ دینا آئین اور قانون کی کھلی خلاف ورزی ہے، اگر عمران خان کا آنکھ کا آپریشن کرنا پڑا تو اس کا مطلب ہے جیل میں غیر انسانی سلوک ہو رہا ہے۔

(جاری ہے)

خیبر پختونخوا کی حکومت عمران خان کے مینڈیٹ سے بنی ہے اور ان کے ساتھ ہونے والے ہر ظلم کی مذمت کرتی ہے، صوبائی کابینہ عمران خان سے فوری طور پر اہل خانہ اور ڈاکٹرز کی ملاقات کا مطالبہ کرتی ہے، عمران خان کی صحت پر ابہام ختم کرنا ریاست اور وفاقی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ اٹھ فروری کو ملک بھر میں عوامی احتجاج کامیاب رہا، کراچی میں پی ٹی آئی کے منتخب نمائندوں پر پولیس تشدد جمہوریت پر حملہ ہے، کراچی میں سابق ایم این اے اور ایم پی ایز پر تشدد کی تصاویر انتہائی دردناک ہیں، صوبائی حکومت مطالبہ کرتی ہے کہ علی زمان اور ان کے ساتھی پر تشدد کرنے والوں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔

وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے کہا کہ آن لائن کھلی کچہری کا آغاز کر دیا گیا ہے اور ایک سیشن مکمل ہو چکا ہے،  وزیر اعلی کا تمام سیکرٹریز، وزرا، ڈی جیز اور ضلعی انتظامیہ کو ہفتہ وار کھلی کچہری کے انعقاد کی ہدایت، صوبائی سطح پر کم از کم ہفتے میں ایک آن لائن کھلی کچہری لازمی ہوگی، آن لائن کھلی کچہری عوام اور حکومت کے درمیان فاصلے کم کرنے کا مؤثر ذریعہ ہے، وسائل یا رسائی کی کمی کے باعث عوام اب گھروں سے اپنی آواز حکام تک پہنچا سکیں گے، کھلی کچہری کے ذریعے عوامی مسائل گھر بیٹھے حل کرنا حکومت کی ترجیح ہے، اے ڈی پی 2026-27 پندرہ فروری تک مکمل کرنے کی ہدایت دی گئی تھی، امید ہے کام مکمل ہو چکا ہوگا، اے ڈی پی 2026-27 پر بریفنگ کا آغاز اسی ماہ کیا جائے گا، وزیر اعلی نے اے ڈی پی 2025-26 پر کام کی سست روی پر برہمی کا اظہار کیا۔

وزیر اعلی نے اے ڈی پی 2025-26 کے تمام منصوبوں کو اسی ماہ فاسٹ ٹریک پر ڈالنے کی ہدایت کی۔ ترقیاتی منصوبوں کے تمام لوازمات فوری مکمل کیے جائیں تاکہ عوام کو ریلیف ملنا شروع ہو، ترقیاتی منصوبوں کے ثمرات اگلے مہینے سے عوام تک پہنچنے چاہئیں۔