الحمرا میں فیض فیسٹیول کے تیسرے روز علم و ادب کا شاندار تسلسل جاری رہا

اتوار 15 فروری 2026 21:00

لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 15 فروری2026ء) لاہور آرٹس کونسل الحمرا میں منعقدہ فیض فیسٹیول کے تیسرے روز کی گہما گہمی نہایت شاندار انداز میں جاری و ساری رہی۔ الحمرا کے مختلف ہالز اور کھلے مقامات پر صبح سے رات گئے تک ادبی سرگرمیوں کا سلسلہ بھرپور انداز میں جاری رہاجہاں اہل قلم، فنکار، دانشور اور نوجوانوں کی بڑی تعداد شریک رہی۔

فضا میں مکالمے کی سنجیدگی، شاعری کی لطافت اور ثقافتی رنگوں کی دلکشی نمایاں تھی۔اختتامی روز مجموعی طور پر 15متنوع سیشنز منعقد ہوئے جبکہ 14کتب کی تقاریب رونمائی بھی ہوئیں جنہوں نے فکری اور تخلیقی سرگرمیوں کو مزید وسعت دی۔ ہر نشست میں سنجیدہ مباحث اور بامقصد گفتگو نے سامعین کو متوجہ رکھا اور سوال و جواب کے سلسلے نے مکالمے کو مزید جاندار بنایا۔

(جاری ہے)

نامور اداکاروں، آرٹسٹوں نے فن اور سماجی شعور کے باہمی تعلق پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے کہا کہ تخلیق کار کی ذمہ داری معاشرتی آگہی کو فروغ دینا ہے۔ معروف صحافی حامد میر نے بدلتے حالات میں صحافت کی اہمیت اور جمہوری اقدار کے تحفظ پر زور دیا۔سینئر شاعر افتخار عارف اور ممتاز شاعرہ زہرا نگاہ نے فیض کے عہد، اس کی معنویت اور اس کے تسلسل پر گفتگو کی، جبکہ نقاد ناصر عباس نیئر نے فیض کی شاعری کے فکری پہلووں کو عصرِ حاضر کے تناظر میں اجاگر کیا۔

شاعر حارث خلیق نے کہا کہ فیض کی آواز آج بھی امید، مزاحمت اور انسانی وقار کی علامت ہے۔مختلف نشستوں میں فیض کے فکر و فلسفے، محبت، امن، مزاحمت اور انسانی برابری کے پیغام کو موضوعِ بحث بنایا گیا۔ مقررین نے اس امر پر اتفاق کیا کہ فیض کی شاعری محض ادبی سرمایہ نہیں بلکہ ایک فکری تحریک ہے جو نئی نسل کو شعور اور حوصلہ فراہم کرتی ہے۔تیسرے روز کی نمایاں جھلکیوں میں کتابوں کی رونمائی، بھرپور شعری نشستیں، مکالماتی سیشنز اور سامعین کی بھرپور شرکت شامل رہی۔ مجموعی طور پر یہ دن اس بات کی روشن دلیل بنا کہ فیض کا خواب اور ادب و ثقافت کا یہ تسلسل آج بھی پوری توانائی کے ساتھ زندہ ہے اور الحمرا میں جاری یہ ادبی کارواں رات گئے تک اپنے فکری اور تخلیقی سفر کو آگے بڑھاتا رہا۔