سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام میں شہد کی مکھی کی فارمنگ بارے ورکشاپ

منگل 17 فروری 2026 17:11

حیدرآباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 17 فروری2026ء) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام میں انٹومولوجیکل سوسائٹی آف سندھ (ای ایس ایس)کی زیرنگرانی شہد کی مکھی پالنے کے حوالے سےورکشاپ کا انعقاد کیا، جس کا مقصد نوجوانوں میں عملی مہارتیں پیدا کرنا اور کاروباری مواقع کو فروغ دینا تھا۔ اس موقع پر مہران یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (MUET) جامشورو کے سابق وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر محمد اسلم عقیلی نے تقریب کی صدارت کی۔

ورکشاپ میں سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام، سندھ یونیورسٹی جامشورو اور جی سی یونیورسٹی حیدرآباد کے 100 طلبا اور پروفیشنلز نے فعال شرکت کی۔اس موقع پر پروفیسر ڈاکٹر محمد اسلم عقیلی نے نوجوانوں کے لئے عملی زرعی مہارتوں اور کاروباری مواقع کی اہمیت پر زور دیا اور کہا کہ شہد کی مکھی پالنا صرف ایک زرعی سرگرمی نہیں بلکہ ایک پائیدار کاروبار ہے جو آمدنی کے ذرائع پیدا کر سکتا ہے اور معاشی روزگار کو سپورٹ فراہم کر سکتا ہے، انہوں نے کہا کہ ا س قسم کی ورکشاپس شرکا کو عملی علم سے بااختیار بناتے ہیں تاکہ وہ اپنے مکھی پالنے کے کاروبار کو اعتماد کے ساتھ شروع کر سکیں۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ مناسب تربیت اور رہنمائی کے ذریعے نوجوان اس قدیم عمل کو منافع بخش کاروبار میں بدل سکتے ہیں، غذائی تحفظ کو بہتر بنا سکتے ہیں اور حیاتیاتی تنوع کو فروغ دے سکتے ہیں۔ انہوں نے تمام شرکا کی حوصلہ افزائی کی کہ وہ یہ مہارتیں مقامی سطح پر استعمال کریں اور دیہی و شہری علاقوں میں نئے مواقع پیدا کریں۔ انٹومولوجیکل سوسائٹی آف سندھ (ای ایس ایس)کے پیٹرن ڈاکٹر عمران کھتری نے جدید زراعت اور متعلقہ صنعتوں میں مہارت کی ترقی کے کردار پر زور دیا اور کہا کہ ورکشاپ کا مقصد عملی تربیت پر فوکس کرنا تھا تاکہ شرکا اپنے مکھی پالنے کے کاروبار کے لیے ضروری تکنیک اور علم حاصل کر سکیں۔

مرکزی ٹرینر اور سیکرٹری ای ایس ایس ڈاکٹر آغا مشتاق احمد نے مکھی پالنے کے بنیادی عملی اقدامات پر تکنیکی رہنمائی اور عملی تربیت فراہم کی جبکہ ڈاکٹر عرفان احمد گلال نے سوسائٹی کی جاری سرگرمیوں پر روشنی ڈالی، جن کا مقصد سائنسی تعلیم، جدت اور کاروباری سوچ کو فروغ دینا ہے۔