مظفرگڑھ ،آم جنوبی پنجاب کی پہچان اور معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے،زرعی ماہرین

بدھ 18 فروری 2026 18:24

مظفرگڑھ (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 18 فروری2026ء) محکمہ زراعت پنجاب کے شعبہ پیسٹ وارننگ کے زیر اہتمام مظفرگڑھ میں آم کی پیسٹ مینجمنٹ، کلائمٹ چینج اور سسٹینیبل پروڈکشن کے موضوع پر اہم سیمینار منعقد ہوا۔ترجمان محکمہ زراعت کے مطابق سیمینار سے ممبر صوبائی اسمبلی عون حمید ڈوگر، سپیشل سیکرٹری زراعت جنوبی پنجاب سرفراز حسین مکسی،ڈپٹی کمشنر مظفر گڑھ عثمان طاہر جپہ،اور ڈائریکٹر جنرل پیسٹ وارننگ پنجاب ڈاکٹر عامر رسول سمیت دیگر نے شرکت کی۔

اس موقع پر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آم جنوبی پنجاب کی پہچان اور معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور جدید ٹیکنالوجی اپنائے بغیر عالمی منڈی میں مسابقت ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتِ پنجاب باغبانوں کو معیاری پیداوار، برآمدات میں اضافے اور موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ہر ممکن معاونت فراہم کر رہی ہے۔

(جاری ہے)

سیمینار میں ماہرینِ زراعت نے بتایا کہ پنجاب میں آم قریباً اڑھائی لاکھ ایکڑ رقبہ پر کاشت کیا جا رہا ہے جبکہ سالانہ پیداوار قریبا 14 لاکھ ٹن ہے، جو ملکی پیداوار کا بڑا حصہ ہے۔

پاکستان اپنی مجموعی آم کی پیداوار کا اوسطاً 8 تا 10 فیصد برآمد کرتا ہے، جبکہ پیداواری پوٹینشل اس سے کہیں زیادہ ہے جسے بعد از برداشت انتظامات، ویلیو ایڈیشن اور کولڈ چین میں بہتری لاکر بڑھایا جا سکتا ہے۔ماہرین نے زور دیا کہ زیادہ پیداواری صلاحیت رکھنے والی اور بین الاقوامی منڈی میں پسند کی جانے والی اقسام مثلاً عظیم چونسہ، چونسہ, سندھڑی, انور رٹول اور دسہری کی کاشت کو فروغ دیا جائے تاکہ برآمدات میں اضافہ ممکن ہو۔

ان اقسام کی بیرونِ ممالک مانگ زیادہ ہے اور بہتر مینجمنٹ سے ان کی فی ایکڑ پیداوار میں خاطر خواہ اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ماہرین نے مزید بتایا کہ آم کے باغات میں آئی پی ایم (IPM) اپنائی جائے، باغات کی باقاعدہ مانیٹرنگ کی جائے، آم کے تیلے ، ملی بگ اور فروٹ فلائی کے تدارک کے لیے فیرومون ٹریپس استعمال کیے جائیں، متوازن کھادوں کا استعمال اور بروقت سپرے شیڈول اپنایا جائے، جڑی بوٹیوں کی تلفی اور باغ کی صفائی کو یقینی بنایا جائے تاکہ بیماریوں کا پھیلاؤ کم ہو۔

ماہرین نے بتایا کہ موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے بچاؤ کے لیے ہائی ایفیشنسی اریگیشن سسٹمز (ڈرِپ/اسپرنکلر)، ملچنگ، شیڈ مینجمنٹ، واٹر ہارویسٹنگ، اور گرمی و ٹھنڈ کے خلاف حفاظتی اقدامات ضروری ہیں۔ قبل از وقت پھول آنے یا گرنے کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے متوازن غذائیت اور آبپاشی کا درست شیڈول اپنانا ہوگا۔ موسمی پیشگوئی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سپرے اور آبپاشی کی منصوبہ بندی کی جائے۔ماہرین نے مزید بتایا کہ زمین کی زرخیزی، پانی کے وسائل اور ماحولیاتی توازن کو متاثر کیے بغیر طویل مدت تک برقرار رکھنے کیلئے پائیدار پیداوار ضروری ہے۔ اس کے لیے سبز کھادوں کا استعمال، متوازن این پی کے کھادیں، درختوں کی مناسب کانٹ چھانٹ (Pruning) اور جدید باغبانی طریقوں کو اپنانا ضروری ہے۔\378