مہاجرین کشمیر ورکنگ کمیٹی نے آزاد جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی کے آئندہ انتخابات میں مہاجرین 1989 کے لیے دو نشستوں کا مطالبہ

منگل 7 اپریل 2026 20:45

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 07 اپریل2026ء) مہاجرین کشمیر ورکنگ کمیٹی نے آزاد جموں کشمیر قانون ساز اسمبلی کے آئندہ انتخابات میں مہاجرین 1989 کے لیے دو نشستوں کا مطالبہ کر دیا ہے۔میڈیا کے نام جاری کیئے گئے ایک مشترکہ بیان میں ورکنگ کمیٹی کے ممبران عزیر احمد غزالی، چوہدری فیروز الدین، راجہ محمد عارف خان، محمد لطیف لون، چوہدری ٹکا خان، ریاض احمد جرال، گوہر احمد کشمیری، چوہدری محمد مشتاق، خواجہ محمد اقبال، بلال احمد فاروقی، ارشاد احمد بٹ، محمد اقبال میر، محمد یونس میر، منظور اقبال بٹ، سرانداز میر، راجہ سجید خان، اقبال یاسین اعوان، عرفان احمد بٹ، فیاض جگوال، شیخ رشید احمد، محمد الطاف چوہدری، جاوید احمد منہاس، چوہدری محمد اشفاق، چوہدری بدر حسین، عبدالحمید لون، چوہدری نور حسین، حاجی رنگیل بٹ، عثمان علی ہاشم، راجہ محمد افتیاز خان، قاضی محمد افتخار، راجہ فضاکت خان، قاضی محمد مدثر، عمر جان، راجہ امتیاز علی خان، سجاد احمد بٹ، انظار احمد بٹ، محمد شفیع بھٹی، خواجہ غلام لاثانی، راجہ محمد فاروق خان، محمد اسلم انقلابی؛سردار اشتیاق اعوان، محمد فیاض خان، فیصل فاروق، چوہدری سیف الدین، نعیم سجاد، علی مہدی ڈار، محمد وسیم کیانی، ریاض خان صحرائی، مختیار حسین بھٹی، سید عبدالرحیم شاہ، عبدالشکور خان، سردار خورشید احمد سمیت ورکنگ کمیٹی کے ممبران، منتخب کونسلرز اور کیمپس ہا کے صدور نے مطالبہ کیا ہے کہ کشمیری مہاجرین 1989 تاحال سیاسی شناخت اور بنیادی حقوق سے محروم ہیں، اس لیے انہیں آئین ساز اسمبلی میں مؤثر نمائندگی دی جائے۔

(جاری ہے)

انہوں نے حکومت آزاد کشمیر اور تمام پارلیمانی جماعتوں پر زور دیا کہ آئندہ انتخابات سے قبل جموں اور وادی کشمیر کی ایک، ایک نشست مہاجرین 1989 کے لیے مختص کی جائے تاکہ وہ ووٹ کے ذریعے اپنے نمائندے منتخب کر سکیں۔رہنماؤں کا کہنا تھا کہ تحریک آزادی کشمیر کے نام پر قائم بیس کیمپ حکومت میں ان مہاجرین کی نمائندگی نہ ہونا لمحہ فکریہ ہے، جو جدوجہد آزادی کا اہم حصہ ہونے کے باوجود مہاجر بستیوں اور کرائے کے مکانات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

مشترکہ بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ مہاجرین 1989 اپنے منتخب نمائندوں کے ذریعے اسمبلی میں اپنی محرومیوں، مسائل اور آبادکاری کے لیے مؤثر آواز بلند کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مقبوضہ جموں کشمیر میں بھارتی قابض افواج کی جانب سے جاری انسانی حقوق کی بدترین خلاف ورزیوں اور جنگی جرائم کو ریاست کی آزاد اسمبلی میں پوری طاقت سے اٹھانے کی ضرورت ہے۔

رہنماؤں نے کہا کہ مہاجرین 1989 گزشتہ ایک دہائی سے اسمبلی میں نمائندگی کے لیے مسلسل مطالبہ کر رہے ہیں، اور اب وقت آ گیا ہے کہ ان کے اس دیرینہ مطالبے کو تسلیم کیا جائے تاکہ متاثرہ مہاجرین اور ان کی نئی نسل کو باوقار سیاسی شناخت مل سکے۔انہوں نے ضلع گاندربل میں بھارتی فورسز کے ہاتھوں مبینہ جعلی مقابلے میں راشد احمد مغل کی شہادت کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے قابض افواج کے مظالم کا تسلسل قرار دیا۔