سندھ زرعی یونیورسٹی میں’’ کپاس کے بیج کی پیداوار اور ترقی: مسائل اور حل‘‘ کے موضوع پر منعقدہ دوروزہ عالمی کانفرنس اختتام پذیر ہوگئی

بدھ 15 اپریل 2026 22:06

حیدرآباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 15 اپریل2026ء) سندھ زرعی یونیورسٹی ٹنڈوجام کی میزبانی میں’’کپاس کے بیج کی پیداوار اور ترقی: مسائل اور حل‘‘ کے موضوع پر منعقدہ دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس اختتام پذیر ہوگئی، جس میں ملکی و غیر ملکی ماہرین، پالیسی سازوں اور بیج کی صنعت سے وابستہ نمائندوں نے پاکستان کے زوال پذیر کپاس کے شعبے کی بحالی کے لیے سائنسی بنیادوں پر مبنی، مربوط اور طویل المدتی حکمتِ عملی اپنانے پر زور دیا۔

اختتامی اجلاس میں پیش کی گئی سفارشات میں کپاس کے بیج کے معیار کو بہتر بنانے، مؤثر ریگولیٹری نظام کے نفاذ اور جدید تحقیق کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیا گیا۔ کانفرنس کے سیکرٹری پروفیسر ڈاکٹر شاہنواز مری نے سفارشات پیش کرتے ہوئے بتایا کہ ترقی یافتہ ممالک میں بیج کی اگاؤ (جرمینیشن) کی شرح 95 فیصد سے زائد ہے، جبکہ پاکستان میں یہ شرح 40 سے 50 فیصد کے درمیان ہے، جو فوری اصلاحات کی متقاضی ہے۔

(جاری ہے)

ماہرین نے بیماریوں، کیڑوں اور موسمیاتی دباؤ کے خلاف مزاحمت رکھنے والی نئی اور زیادہ پیداوار دینے والی اقسام کی تیاری پر زور دیا، جبکہ جلد کاشت اور کم مدت میں تیار ہونے والی فصلوں کی ترقی کو بھی وقت کی اہم ضرورت قرار دیا گیا۔ اس کے ساتھ ساتھ کسانوں کے لیے مارکیٹ، طلب اور نرخ کے حوالے سے واضح اور مؤثر پالیسی سازی کی ضرورت پر بھی زور دیا گیا تاکہ کاشتکاروں کو معاشی تحفظ فراہم کیا جا سکے۔

کانفرنس میں کپاس کی کاشت میں کمی کے اسباب کے سائنسی تجزیے، نئی اقسام کی رجسٹریشن اور فروغ، اور فیڈرل سیڈ سرٹیفیکیشن اینڈ رجسٹریشن ڈیپارٹمنٹ (FSC&RD) کے ذریعے ترقی پسند کاشتکاروں کی رجسٹریشن کی سفارش کی گئی تاکہ معیاری کمرشل بیج کی پیداوار میں اضافہ ممکن ہو سکے۔ اختتامی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سندھ زرعی یونیورسٹی کے وائس چانسلر انجینئر ڈاکٹر الطاف علی سیال نے کہا کہ کپاس کے شعبے کی بحالی نہ صرف زرعی بلکہ قومی معیشت کے لیے بھی ناگزیر ہے اور یہ ہدف مشترکہ سائنسی کوششوں سے ہی حاصل کیا جا سکتا ہے۔

مہمانِ خصوصی اور جامعہ کراچی کی پروفیسر ڈاکٹر رفعت احمد نے کہا کہ ملکی ترقی کے لیے کپاس کی فصل کا عروج بحال کرنا ناگزیر ہے، کیونکہ اس سے ٹیکسٹائل کا شعبہ مستحکم ہوگا اور معیشت کو سہارا ملے گا۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ کانفرنس کی سفارشات کو پالیسی کا حصہ بنایا جائے اور قومی و بین الاقوامی اداروں کے تعاون سے بیج کے مسائل کے حل کیلئے سنجیدہ اقدامات کیے جائیں۔

دیگر مقررین، جن میں ڈاکٹر واجد علی جتوئی اور ڈاکٹر شبانہ میمن شامل تھے، نے کہا کہ کپاس کی فصل دیہی معیشت، خصوصاً خواتین کی زرعی شمولیت اور گھریلو آمدن میں اضافے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ تقریب کے اختتام پر وائس چانسلر ڈاکٹر الطاف علی سیال، ڈین ڈاکٹر عنایت اللہ راجپر اور دیگر نے مہمانان، شرکاء، نجی کمپنیوں اور منتظمین میں شیلڈز اور اسناد تقسیم کیں، جبکہ پوسٹر مقابلے اور بہترین اسٹالز لگانے والی کمپنیوں کو بھی تعریفی سرٹیفکیٹس سے نوازا گیا۔