بی جے پی کی بھارتی حکومت سکولوں کے نصاب میں قابل اعتراض اور اسلام مخالف مواد متعارف کرارہی ہے

جمعرات 30 اپریل 2026 16:50

نئی دہلی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 30 اپریل2026ء) بی جے پی کی بھارتی حکومت سکولوں کے نصاب میں قابل اعتراض اور اسلام مخالف مواد متعارف کرارہی ہے، جس کا مقصد نوجوانوں کے ذہنوں میں زہر گھولنا اور سماجی ہم آہنگی کو نقصان پہنچانا ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق جھارکھنڈ میں ایک واضح مثال سامنے آئی ہے، جہاں سکولوں میں پڑھائی جانے والی ہندی کی نصابی کتاب ’’ساہتیہ ساگر‘‘ میں اسلام کے تئیں غیر حساس مواد موجود ہے جو بچوں پر منفی، مسلم مخالف اثر ڈال سکتا ہے۔

(جاری ہے)

بی جے پی کی بھارتی حکومت نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھی ایک نظر ثانی شدہ نصاب نافذ کیا ہے جس میں کشمیر کی تاریخ کو مسخ کر کے پیش کیا گیا ہے اور مسلمانوں کے خلاف انتہائی نفرت انگیز مواد کو فروغ دیا گیا ہے۔مبصرین خبردار کرتے ہیں کہ بی جے پی/آر ایس ایس سے چلنے والا ہندوتوا نظریہ تعلیم کا استعمال سچائی، باہمی احترام اور افہام و تفہیم کے بجائے تقسیم، عدم برداشت اور غلط معلومات کو آگے بڑھانے کے لیے کر رہا ہے۔تعلیم کا مقصد معاشرے کے مختلف طبقوں میں ہم آہنگی پیدا کرنا ہوتا ہے نہ کہ نفرت پھیلانا اور دوریاں پیدا کرنا مگر بی جے پی کی ہندو توا بھارتی حکومت اس مقدس پیشے کو بھی اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کر رہی ہے۔