مظفرآباد کے نواحی علاقہ گوڑی میں تخریب کاروں نے عوا م کا قدیمی پیدل راستہ بند کر دیا

ْ دیوار لگا کرعلاقہ کے قدیمی راستہ کی بندش سے سکول جانے والے بچوں کو شدید مشکلات کا سامنا

جمعہ 1 مئی 2026 14:25

مظفرآباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 01 مئی2026ء) مظفرآباد کے نواحی علاقہ گوڑی میں تخریب کاروں نے عوا م کا قدیمی پیدل راستہ بند کر دیا،ایک جانب دیوار لگا کرعلاقہ کے قدیمی راستہ کی بندش سے سکول جانے والے بچوں کو شدید مشکلات کا سامنا،جبکہ دوسری جانب ایک اور قدیم گزرگاہ کو گیٹ لگا کر صحن میں تبدیل کرنے کی کوشش،یاد رہے کہ یہ وہی راستہ ہے جو قدیم دور سے مویشیوں کو چراگاہ لے جانے کے لئے استعمال ہوتا رہا ہے،عمراعوان نامی شخص مظلوم بن کر شاہ زمان و اہل خانہ کی کردار کشی پر اتر آیا،معاملہ کی اصل صورت حال نے تمام حقائق کو بے نقاب کر دیا،عوام علاقہ کا ضلعی انتظامیہ ،پولیس سے فوری ایکشن لے کر بند راستے کھلوانے کا مطالبہ ،تفصیلات کے مطابق مظفرآباد کے نواحی علاقہ گوڑی میں عمر نامی اعوان شخص اور اس کے اہل خانہ کی جانب سے شاہ زمان ریٹائرڈ انسپکٹر پولیس پر لگائے جانے والے الزامات من گھڑت نکلے،چند روز سے عمر اعوان نامی شخص کی جانب سے سوشل میڈیا پر حقائق کو توڑ مروڑ کر شا ہ زمان اور اہل خانہ کی کردار کشی مہم اس وقت بے نقاب ہو گئی جب متاثرہ فریق اصل صورت حال سامنے لے آیا،واقعات کے مطابق اصل صورت حال یہ ہے کہ عمر اعوان نامی شخص، ریٹائرڈ انسپکٹر پولیس شاہ زمان کی ذاتی ملکیتی زمین سے جانے والے راستے کو زبردستی سڑک میں تبدیل کروانے کا خواہاں ہے، جب عمر اعوان و اہل خانہ کی یہ معصوم خواہش پوری نہ ہوئی تو مذکورہ شخص مظلوم بن کر کردا ر کشی پر اتر آیا ،حالاں کہ عمر اعوان نامی شخص و اہل خانہ اس وقت بھی اپنی آمدورفت کے لیے شاہ زمان کی زمین سے راستہ استعمال کر رہے ہیں، شاہزمان پولیس سے 11سال قبل ریٹائرڈ ہوئے اور اس وقت اوپن ہارٹ سرجری کے ساتھ بستر پر ہیں ،عمر نامی بچے نے سوشل میڈیا ٹرائل اور پریس کانفرنس میں یکطرفہ اور اصل حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کیا ،اصل مسئلہ راستے کا نہیں ہے بلکہ ملکیتی اراضی سے روڈ حاصل کرنے کی خواہش ہے ،حالاں کہ عمر اعوان اور اہل خانہ نے اہل علاقہ کا قدیمی راستہ بند کر رکھا ہے، اس حوالہ سے متعدد جرگے بھی ہو چکے ہیں اور راستہ کھولنے کے حوالے سے عمر اعوان کے والد کی تحریریں بھی موجود ہیں ،بند راستے کھولنے کے بجائے اب مذکورہ افراد کردار کشی پر اتر آئے ہیں،شاہ زمان اور متعلقہ فریقین کا موقف ہے کہ اگرعمر اعوان وغیرہ کی زمین پر قبضہ کیا گیا ہے تو محکمہ مال کے پاس ریکارڈ موجود ہے ،متعلقہ فورمز کے بجائے سوشل میڈیا ٹرائل کے ذریعے باعزت خاندان کو بدنام کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں،ان کا کہنا ہے کہ ایسی بات جو عمر اعوان وغیرہ کے مفادات کے مطابق نہ ہوکیا وہ نا انصافی تصورہو گی متاثرہ فریق کا کہنا ہے کہ عمر اعوان کی جانب سے اپنے سوشل میڈیا اکاؤنٹ سے گالم گلوچ بھی کی گئی اور دھمکیاں بھی دی گئیں،اور بعد ازاں اس شخص نے وہ پوسٹیں ڈیلیٹ کر دیں لیکن ہم نے صبر کا دامن پھر بھی نہیں چھوڑا،متاثرہ فریق کا کہنا ہے کہ سوشل میڈیا ٹرائل، گالم گلوچ اور یکطرفہ کہانی کے ذریعے کسی کی عزت اچھالنا کہاں کا انصاف ہی اصل ظلم تو عوام علاقہ کے ساتھ ہو رہا ہے جن کے پیدل راستے اب بھی بند ہیں ،تحریری معاہدہ بھی اس حوالہ سے موجود ہے،راستوں کی بندش کی وجہ سے بچے سکول نہیں جا پا رہے ہیں،اور مال مویشی اب بھی گھروں میں مقید ہیں،مذکورہ شخص پختہ دیوار لگا کر بند کیے گئے عوامی راستہ کو کھولنے کے وعدے سے انحراف کرتے ہوئے کردار کشی پر اتر آیا ہے،متاثرہ فریق نے میڈیا سے اپیل کی ہے کہ خدارا انصاف کویکطرفہ جذبات کی بھینٹ نہ چڑھایا جائے بلکہ دونوں اطراف کا موقف سننے کے بعد ہی کسی معاملے کو سوشل میڈیا کی زینت بنایا جائے۔