وفاقی حکومت کا خیبرپختونخواہ کے سی این جی اسٹیشنز کو گیس فراہم کرنے سے انکار

سی این جی کی بندش سے صوبے کا ٹرانسپورٹ سیکٹر شدید متاثر، عوام بھی متبادل ایندھن کے مہنگے ذرائع استعمال کرنے پر بھی مجبور

muhammad ali محمد علی ہفتہ 2 مئی 2026 00:30

وفاقی حکومت کا خیبرپختونخواہ کے سی این جی اسٹیشنز کو گیس فراہم کرنے ..
پشاور(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ یکم مئی2026ء) وفاقی حکومت کا خیبرپختونخواہ کے سی این جی اسٹیشنز کو گیس فراہم کرنے سے انکار، سی این جی کی بندش سے صوبے کا ٹرانسپورٹ سیکٹر شدید متاثر، عوام بھی متبادل ایندھن کے مہنگے ذرائع استعمال کرنے پر بھی مجبور۔ تفصیلات کے مطابق خیبرپختونخواہ میں سی این جی اسٹیشنز کی بندش کا معاملہ برقرار ہے، وفاقی حکومت نے صوبے کو اضافی گیس فراہم کرنے سے معذرت کرلی ہے۔

اس حوالے سے وفاقی وزیر علی پرویز ملک نے مشیر خزانہ مزمل اسلم کو آگاہ کردیا۔ وفاقی وزیر کے مطابق ملک پہلے ہی شدید گیس بحران کا شکار ہے، جس کے باعث خیبرپختونخوا کو اس وقت مزید گیس فراہم کرنا ممکن نہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ بیرون ملک سے ایل این جی کی فراہمی تک صورتحال میں بہتری کی توقع نہی۔

(جاری ہے)

اس سے قبل خیبرپختونخواہ میں سی این جی اسٹیشنز کو یومیہ تقریبا 20 ملین کیوبک فٹ گیس فراہم کی جارہی تھی۔

سی این جی اسٹیشنز کی بندش پر وزیراعلی کی ہدایت پر مشیر خزانہ مزمل اسلم نے وفاقی وزیر سے رابطہ کیا، تاہم فوری ریلیف کی کوئی صورت نہ نکل سکی۔ اس تمام صورتحال میں وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ گیس کی اضافی پیداوار کے باوجود مقامی، کاروباری اور گھریلو صارفین کو گیس کی فراہمی بند ہے جس کی وجہ سے صنعتیں بند ہونے کے قریب پہنچ گئیں ہیں۔

خیبرپختونخوا گیس پیدا کرنے والا صوبہ ہونے کے باوجود بدترین لوڈشیڈنگ سے دوچار ہے، جس کی وجہ سے کمرشل سرگرمیاں اور سی این جی انڈسٹری بری طرح متاثر ہو رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آئین کے آرٹیکل 158 کے تحت قدرتی وسائل پر پہلا حق صوبے کا ہے مگر اس آئینی تقاضے پر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا، خیبر پختونخواہ 400 ایم ایم سی ایف ڈی گیس پیدا کرتا ہے جبکہ ضرورت 150 ایم ایم سی ایف ڈی ہے مگر اس کے باوجود لوڈشیڈنگ جاری ہے۔