سزائے موت کا اسرائیلی قانون فلسطینیوں کے خلاف نسلی امتیاز، یو این کمیٹی

یو این جمعہ 1 مئی 2026 23:30

سزائے موت کا اسرائیلی قانون فلسطینیوں کے خلاف نسلی امتیاز، یو این کمیٹی

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ UN اردو۔ 01 مئی 2026ء) نسلی امتیاز کے خاتمے سے متعلق اقوام متحدہ کی کمیٹی نے خبردار کیا ہے کہ اسرائیل میں دہشت گردوں کے لیے سزائے موت کا حالیہ قانون فلسطینیوں کے خلاف نسلی امتیاز کو فروغ دیتا ہے اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی کے مترادف ہے۔

کمیٹی نے حال ہی میں منظور کردہ اس قانون پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے فوری طور منسوخ کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس قانون کے تحت اسرائیلی فوجی عدالتوں میں 'دہشت گردی کے اقدامات' سے متعلق مقدمات میں پھانسی کی سزا کو لازمی قرار دیا گیا ہے۔ ان عدالتوں کا صرف مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں رہنے والے فلسطینیوں پر اختیار ہے جبکہ اسرائیلی شہریوں اور مستقل باشندوں کو اس قانون کے دائرہ کار سے خارج رکھا گیا ہے۔

(جاری ہے)

کمیٹی نے کہا ہے کہ نیا قانون انسانی حقوق پر کاری ضرب کے مترادف ہے۔

اس سے اسرائیل میں سزائے موت پر عائد پابندی ختم ہو گئی ہے جو 1962 سے چلی آ رہی تھی۔ علاوہ ازیں، اب اسرائیل و مقبوضہ فلسطینی علاقوں، بشمول مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں سزائے موت کے واقعات بڑھ جانے کا خدشہ ہے۔

فلسطینیوں کے حقوق کی پامالی

کمیٹی نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے کہ اسرائیل میں یہ قانون صرف ان افراد پر لاگو ہوتا ہے جنہیں اس نیت سے قتل کا مرتکب قرار دیا جائے کہ وہ ریاست اسرائیل کے وجود کو ختم کرنا چاہتے تھے۔

اس طرح عملاً یہ قانون صرف فلسطینیوں پر ہی لاگو ہوتا ہے۔ اس قانون کے تحت سزائے موت میں کمی، تبدیلی یا معافی کی کوئی گنجائش نہیں اور حتمی فیصلے کے بعد 90 روز میں سزا پر عملدرآمد لازمی قرار دیا گیا ہے۔

کمیٹی نے تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ قانون ایسے وقت منظور کیا گیا ہے جب مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں آبادکاروں کے بڑھتے تشدد، فلسطینیوں کے قتل اور بلا احتساب ظالمانہ کارروائیوں کے ساتھ فلسطینیوں کے قانونی حقوق کی مسلسل خلاف ورزی ہو رہی ہے۔

جنوری 2026 تک 9,243 فلسطینی اسرائیلی جیلوں میں قید تھے جن میں سے 3,385 کو مقدمہ چلائے بغیر انتظامی حراست میں رکھا گیا تھا۔

نسلی امتیاز کے خاتمے کا مطالبہ

کمیٹی نے اسرائیل سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ قانون کو واپس لیتے ہوئے یقینی بنائے کہ اسرائیلی فوجی یا سول حراست میں موجود تمام فلسطینی قیدیوں کو قانون کے سامنے برابری، جان و مال کے تحفظ، تشدد سے بچاؤ اور انصاف تک رسائی کے حقوق حاصل ہوں۔

اقوام متحدہ کی کمیٹی نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ فلسطینیوں کے خلاف نسلی امتیاز اور علیحدگی پر مبنی تمام پالیسیوں اور اقدامات کا خاتمہ کرے۔

نسلی امتیاز کے خاتمے کے بین الاقوامی کنونشن کے تحت رکن ممالک پر لازم ہے کہ وہ اس کا خاتمہ کریں، علیحدگی اور نسل پرستی کے تمام طریقوں کی مذمت کریں، ان کا خاتمہ یقینی بنائیں اور سبھی کو مساوی قانونی حقوق دیے جائیں۔ اسرائیل نے 1979 میں اس کنونشن کی توثیق کی تھی۔

کمیٹی نے رکن ممالک سے بھی اپیل کی ہے کہ وہ اپنے فرائض کو پورا کرتے ہوئے یقینی بنائیں کہ ان کے وسائل فلسطینیوں کے خلاف امتیازی پالیسیوں اور اقدامات کے نفاذ یا حمایت میں استعمال نہ ہوں۔