ہمارا مؤقف واضح ہے کہ اگر ایک روپیہ بھی کرپشن ثابت ہو جائے تو ہم خود احتساب کیلئے تیار ہیں

ایسا طرز سیاست ذاتی مفادات یا کرپشن کے ذریعے اقتدار میں آنے سے نہیں بلکہ عوامی طاقت سے آتا ہے، عمران خان کے وژن نے لوگوں کو حق اور باطل میں فرق سمجھا دیا ہے۔ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی کا خطاب

Sanaullah Nagra ثنااللہ ناگرہ جمعہ 1 مئی 2026 21:38

ہمارا مؤقف واضح ہے کہ اگر ایک روپیہ بھی کرپشن ثابت ہو جائے تو ہم خود ..
پشاور (اردوپوائنٹ اخبار تازہ ترین۔ انٹرنیشنل پریس ایجنسی ۔ 01 مئی 2026ء ) وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے کہا ہے کہ ہمارا مؤقف واضح ہے کہ اگر ایک روپیہ بھی کرپشن ثابت ہو جائے تو ہم خود احتساب کیلئے تیار ہیں۔ وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا محمد سہیل آفریدی نے پشاور رنگ روڈ ناردرن سیکشن پیکج ون کی افتتاحی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج خوشی کا موقع ہے کہ پشاور رنگ روڈ کے مسنگ لنک کا پیکج ون مکمل ہو چکا ہے۔

انشاءاللہ تعالیٰ باقی فیزز پر بھی کام جاری ہے، تاہم کچھ مقامات پر زمین کے مسائل درپیش ہیں۔ اس سلسلے میں متعلقہ حکام کو ہدایت دی گئی ہے کہ تمام معاملات قانون اور انصاف کے مطابق حل کیے جائیں۔ ہم ایک عوامی حکومت ہیں اور عوامی مفادات کو اولین ترجیح دیتے ہیں۔

(جاری ہے)

کسی کی زمین لے کر اسے معاوضہ نہ دینا ناانصافی ہوگی، اس لیے تمام لینڈ ایشوز شفاف طریقے سے حل کیے جائیں گے تاکہ ترقی کا یہ سفر بلا رکاوٹ جاری رہ سکے۔

پشاور ریوٹیلائزیشن پلان ایک بڑا منصوبہ ہے جس کی مالیت تقریباً 200 ارب روپے ہے۔ اس سے قبل بھی عمران خان کی حکومت نے پشاور کو بی آر ٹی جیسے بڑے منصوبے کا تحفہ دیا، جس سے مڈل کلاس اور غریب طبقے کو سہولت ملی۔ اسی وژن کو آگے بڑھاتے ہوئے ہم نے یہ جامع پلان پشاور کے عوام کے لیے متعارف کرایا ہے۔ میرا تعلق خیبر سے ہے، لیکن پشاور ہمارے صوبے کا دارالحکومت ہے اور اس کی ترقی پورے صوبے کی ترقی ہے۔

اسی لیے ہم نے پہلے کیپیٹل پر توجہ دی ہے، کیونکہ یہاں تمام اضلاع کے لوگ آباد ہیں۔ انشاءاللہ تعالیٰ آؤٹر رنگ روڈ پر بھی جلد پیش رفت ہوگی اور اس کی فیزیبلٹی جلد مکمل کی جائے گی۔ جب سے پشاور ریوٹیلائزیشن پلان کے تحت 200 ارب روپے کا پیکج دیا تو اگلے ہی دن سے مخصوص ڈیجیٹل پروپیگنڈا چینلز کے ذریعے منفی مہم شروع کر دی گئی۔ یہ صحافت پر بھی دھبہ ہے اور عوام کو گمراہ کرنے کے لیے ہمارے خلاف فضول وسائل استعمال کیے جا رہے ہیں، حالانکہ یہی وسائل عوام کی فلاح پر خرچ ہونے چاہئیں۔

لیکن آج عوام باشعور ہے، عمران خان کے وژن نے لوگوں کو حق اور باطل میں فرق سمجھا دیا ہے۔ اب سب جانتے ہیں کہ کون عوام کے ساتھ کھڑا ہے اور کون ذاتی مفادات کے لیے کھیل رہا ہے، اور انشاءاللہ فیصلہ ہمیشہ عوام کے حق میں ہی ہوگا۔ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا نے کہا کہ جب سے ہم نے پشاور ریوٹیلائزیشن پلان کے تحت 200 ارب روپے کا پیکج دیا ہے تو کچھ مخصوص عناصر کی جانب سے شور شرابہ شروع ہو گیا ہے۔

دراصل یہ وہی ذہنیت ہے جو ہمیشہ سے پختونوں اور خیبر پختونخوا کے خلاف رہی ہے۔ ہم تو کھلی دعوت دیتے ہیں کہ ہر صحافی، ہر ڈیجیٹل میڈیا پلیٹ فارم اور ہر فرد کو مکمل آزادی ہے کہ وہ تنقید کرے، خاص طور پر وہ تنقید جو اصلاح کے لیے ہو، ہم اسے خوش آمدید کہتے ہیں اور اپنی اصلاح بھی کرتے ہیں۔ جیسے حال ہی میں ٹینڈر کے معاملات میں بھی واضح کیا گیا ہے کہ جو بھی تکنیکی طور پر نااہل ہوگا وہ خود بخود آؤٹ ہوگا، اور اگر کوئی ملوث پایا گیا تو اس کے خلاف انکوائری اور سزا دونوں ہوں گی۔

ہمارا مؤقف واضح ہے کہ اگر ایک روپیہ بھی کرپشن ثابت ہو جائے تو ہم خود احتساب کے لیے تیار ہیں۔ یہ وہی طرزِ سیاست ہے جو عوامی طاقت سے آتا ہے اور عمران خان کے وژن کی پیروی کرتا ہے نہ کہ وہ جو ذاتی مفادات یا کرپشن کے ذریعے اقتدار میں آئے۔