مقبوضہ جموں وکشمیر ، جماعت اسلامی سے وابستہ مزید58اسکولوں پرمودی حکومت کا قبضہ

بھارت نے 2019 میں جماعت اسلامی پر پابندی لگا دی تھی جس میں 2024 میں توسیع کر دی گئی، اب ان اسکولوں کوڈپٹی کمشنرز چلائیں گے

اتوار 3 مئی 2026 13:15

سرینگر(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 03 مئی2026ء) غیرقانونی طورپر بھارت کے زیر قبضہ جموں وکشمیر میں نئی دہلی کی مسلط کردہ انتظامیہ نے جماعت اسلامی اور اس کے فلاح عام ٹرسٹ سے منسلک مزید 58 نجی اسکولوں کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔کشمیر میڈیا سروس کے مطابق زیادہ تر سکول شمالی کشمیر میں واقع ہیں۔ اگست 2025 میں پہلے ہی فلاح عام ٹرسٹسے منسلک 215 اسکولوں پرقبضہ کیاگیا ہے۔

1990 میں غیر قانونی قرار دیے جانے سے پہلے فلاح عام ٹرسٹ مقبوضہ علاقے میں 350 سے زائد اسکول چلارہا تھا۔

(جاری ہے)

اس نیٹ ورک میں تقریباً 60,000 طلباء زیر تعلیم تھے اور 4,000 سے زائد کاعملہ کام کررہا تھا۔ سیاسی اور حریت پسند حلقوں نے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے مقبوضہ جموں وکشمیرمیں مسلمانوں کے زیر انتظام تعلیمی اداروں کو نشانہ بنانے کی ایک وسیع ترمہم کا حصہ قراردیا ہے۔بھارت نے 2019 میں جماعت اسلامی پر کالے قانون یواے پی اے کے تحت پابندی لگا دی تھی جس میں 2024 میں توسیع کر دی گئی ۔ اب ان اسکولوں کوڈپٹی کمشنرز چلائیں گے۔اس فیصلے سے مقامی سیاسی قیادت کے اندر بھی اختلافات پیداہوئے اور وزیر تعلیم سکینہ ایتو نے بھارتی بیوروکریسی پر احکامات میں تبدیلیکا الزام لگایا۔