اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بینکوں کے اشتراک سے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے روشن اپنی کار اسکیم کا باضابطہ آغاز کر دیا

روشن اپنی کار اسکیم کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا مکمل ڈیجیٹل نظام ہے، جس میں کسی قسم کی کاغذی کارروائی کی ضرورت نہیں، مرکزی بینک

اتوار 3 مئی 2026 22:35

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 03 مئی2026ء) اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے بینکوں کے اشتراک سے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے روشن اپنی کار اسکیم کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے، جس کا مقصد اوورسیز پاکستانیوں کو ملک میں موجود اپنے اہلِ خانہ کے لیے آسان اور کم شرحِ سود پر گاڑی کی فراہمی ممکن بنانا ہے۔ یہ اقدام روشن ڈیجیٹل اکائونٹ کے تحت متعارف کرایا گیا ہے، جسے پہلے ہی دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں کی جانب سے بھرپور پذیرائی حاصل ہو رہی ہے۔

اس اسکیم کے تحت اوورسیز پاکستانی نہ صرف آسانی سے گاڑی خرید سکیں گے بلکہ مکمل ڈیجیٹل پراسیس کے ذریعے درخواست جمع کروانے سے لے کر قرض کی منظوری تک تمام مراحل انتہائی تیزی اور سہولت کے ساتھ مکمل کیے جا سکیں گے۔

(جاری ہے)

حکام کے مطابق گاڑی کی فراہمی روایتی طریقہ کار کے مقابلے میں 50 فیصد کم وقت میں ممکن ہوگی، جس سے صارفین کو نمایاں ریلیف ملے گا۔

اسٹیٹ بینک کے مطابق روشن اپنی کار اسکیم کی سب سے نمایاں خصوصیت اس کا مکمل ڈیجیٹل نظام ہے، جس میں کسی قسم کی کاغذی کارروائی کی ضرورت نہیں۔ درخواست گزار اپنے متعلقہ بینک کے آن لائن پورٹل کے ذریعے چند آسان مراحل میں درخواست جمع کروا سکتے ہیں، جبکہ صرف چار دن کے اندر قرض کی منظوری بھی دی جا سکے گی۔شرحِ سود کے حوالے سے بھی اس اسکیم کو مارکیٹ کے مقابلے میں زیادہ موزوں اور کم رکھا گیا ہے، تاکہ زیادہ سے زیادہ اوورسیز پاکستانی اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکیں۔

اس اسکیم میں قرض کی دو بنیادی اقسام متعارف کروائی گئی ہیں جن میں فلوٹنگ ریٹ اور فکسڈ ریٹ شامل ہیں۔فلوٹنگ ریٹ کے تحت شرح سود وقت کے ساتھ تبدیل ہوتی رہتی ہے۔ اس میں مزید دو آپشنز دیے گئے ہیں۔ لین بیسڈ فنانسنگ میں وہ صارفین جو اپنے روشن ڈیجیٹل اکانٹ یا نیا پاکستان سرٹیفکیٹس میں موجود رقم کو ضمانت کے طور پر رکھتے ہیں، انہیں اسٹیٹ بینک کے مقررہ فلور ریٹ پر صرف ایک فیصد اضافی منافع کے ساتھ قرض فراہم کیا جائے گا۔

جبکہ نان لین بیسڈ فنانسنگ میں چھ ماہ کی کائبور (KIBOR) شرح پر صرف ایک فیصد اضافی چارج کیا جائے گا۔دوسری جانب فکسڈ ریٹ آپشن میں قرض کی شرح سود پورے عرصے کے لیے ایک جیسی رہتی ہے، جسے متعلقہ بینک اپنے اخراجات اور پاکستان ری ویلیو ایشن ریٹ (PKRV) کی بنیاد پر طے کرتے ہیں۔ ایک بار شرح طے ہونے کے بعد قرض کی مکمل واپسی تک اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی جاتی، جس سے صارفین کو مالی منصوبہ بندی میں آسانی ہوتی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ اسکیم نہ صرف اوورسیز پاکستانیوں کے لیے ایک بڑی سہولت ہے بلکہ ملک میں آٹو سیکٹر کی ترقی اور معیشت میں بہتری کا باعث بھی بنے گی۔ روشن اپنی کار اسکیم کے ذریعے بیرونِ ملک مقیم پاکستانی اپنے خاندان کی ضروریات کو بہتر انداز میں پورا کر سکیں گے جبکہ ترسیلاتِ زر میں اضافے کی بھی توقع کی جا رہی ہے۔