جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی سنڈیکیٹ نے گورننس، مالیات اور تعلیمی اصلاحات کی منظوری دے دی

بدھ 6 مئی 2026 16:18

کراچی (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 06 مئی2026ء) جناح سندھ میڈیکل یونیورسٹی کے 37ویں سنڈیکیٹ اجلاس میں، جس کی صدارت وائس چانسلر پروفیسر امجد سراج میمن نے کی، گورننس کو مضبوط بنانے، مالی استحکام کو یقینی بنانے اور تعلیمی معیار کو فروغ دینے کے لیے متعدد اہم فیصلوں کی منظوری دی گئی۔سنڈیکیٹ نے نئے اراکین پروفیسر سعید قریشی اور ایم پی اے سہراب خان سرکی کا خیرمقدم کیا اور 36ویں سنڈیکیٹ اجلاس کے منٹس کے ساتھ ساتھ فنانس اینڈ پلاننگ کمیٹی کے 27ویں اجلاس کی توثیق کی۔

اہم مالی فیصلوں میں فنڈز کی سرمایہ کاری، آئی ایم ای-جے ایس ایم یو کے ایم ایچ پی ای پروگرام کی فیس میں نظرثانی، مالی سال 202627 کے لیے جے ایس ایم یو ڈائیگناسٹک لیب کے ٹیسٹ ریٹس کی اپڈیٹ، اور آفس آف پوسٹ گریجویٹ اسٹڈیز کے قیام کی منظوری شامل تھی۔

(جاری ہے)

ملازمین اور ان کے اہل خانہ کے لیے شفاف اور میرٹ پر مبنی اسکالرشپ اور مالی معاونت کی پالیسی کی بھی منظوری دی گئی۔

اندرونی کنٹرول کو مضبوط بنانے کے لیے ڈائریکٹر آڈٹ کے عہدے کا نام تبدیل کر کے ڈائریکٹر انٹرنل آڈٹ رکھا گیا۔ سنڈیکیٹ نے اساتذہ کی کانفرنسز میں شرکت کو محدود کرنے کے لیے کمیٹی بنانے کی ہدایت دی تاکہ مریضوں کی دیکھ بھال متاثر نہ ہو۔عملے اور تعلیمی معاملات میں، فارم ڈی پروگرام کے وزٹنگ فیکلٹی کے لیے ایوننگ الانس کی منظوری دی گئی جبکہ آئی ایچ بی ایم کے ویک اینڈ ایم بی اے پروگرام کے انتظامی عملے کے لیے ادائیگیوں میں نظرثانی کی گئی۔

جے ایس ایم یو کے پے اسکیل پر بھی غور کیا گیا اور اینستھیزیا کے شعبے میں سینیئر رجسٹرار اور کلینیکل انسٹرکٹرز کے لیے مارکیٹ کے مطابق تنخواہوں اور وظائف کی منظوری دی گئی۔ ڈی ایچ اے میں ابتدائی طور پر جے ایس ایم یو ڈائیگناسٹک اینڈ کمیونٹی ہیلتھ سینٹر کے قیام کی منظوری بھی دی گئی، جبکہ مالی سال 202425 کے آڈٹ شدہ اکانٹس کی بھی توثیق کی گئی۔

سنڈیکیٹ نے آئی ایم ای-جے ایس ایم یو کی جانب سے نئے اور نظرثانی شدہ کورسز کی منظوری دی اور بین الشعبہ جاتی تعلیم کو فروغ دینے کے لیے سوشل سائنسز اور مختلف زبانوں کا نیا شعبہ قائم کیا گیا۔ انسٹیٹیوٹ آف نرسنگ اینڈ مڈوائفری، ایس ایم سی جے ایس ایم یو کے بایو کیمسٹری اور پیتھالوجی ڈیپارٹمنٹس، اور اے آئی پی ایچ میں فیکلٹی عہدوں(پروفیسر، ایسوسی ایٹ پروفیسر، اسسٹنٹ پروفیسر، لیکچرر)کی منظوری دی گئی، جبکہ جے ایس ایم یو ڈائیگناسٹک لیب میں نان فیکلٹی اسامیوں کی بھی منظوری دی گئی۔

سنڈیکیٹ نے وائس چانسلر کو اختیار دیا کہ وہ سنگین بدعنوانی یا ہراسانی میں ملوث ملازمین کے خلاف بڑی سزائیں نافذ کر سکیں، جبکہ عارضی کنٹریکٹ ملازمین کو مستقل کنٹریکٹس کے لیے باقاعدہ سلیکشن کے عمل سے گزرنا ہوگا۔ سنڈیکیٹ نے معذوری، منشیات و تمباکو، اور ہراسانی سے متعلق تین کوالٹی کنٹرولڈ پالیسیز بھی منظور کیں۔وائس چانسلر پروفیسر امجد سراج میمن نے اجلاس کے نتیجہ خیز مباحث کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ فیصلے ادارے کی ترقی اور تعلیمی معیار کو نمایاں طور پر بہتر بنائیں گے۔ اجلاس میں پرو وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر نگہت شاہ، رجسٹرار ڈاکٹر اعظم خان، اور تمام سنڈیکیٹ اراکین نے شرکت کی۔ ایجنڈا رجسٹرار آفس کی جانب سے تیار کیا گیا تھا۔