قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات کااجلاس، مالیاتی ادارے (فنانس کی ریکوری) ترمیمی ایکٹ بل 2026 قومی اسمبلی سے منظورکرنے کی سفارش

جمعرات 14 مئی 2026 19:50

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 14 مئی2026ء) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ و محصولات نے مالیاتی ادارے (فنانس کی ریکوری) ترمیمی ایکٹ بل 2026 قومی اسمبلی سے منظورکرنے کی سفارش کی ہے۔ قائمہ کمیٹی کا اجلاس جمعرات کویہاں پارلیمنٹ ہائوس اسلام آباد میں چیئرمین سید نویدقمر کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں مالیاتی ادارے (فنانس کی ریکوری) ترمیمی ایکٹ بل 2026 پر غور جاری رکھا گیا۔

اجلاس کے دوران مجوزہ ترامیم پر تفصیلی غور کیا گیا جن کا مقصد رہن رکھنے والے افراد (مورگیجرز) کو اختیارات کے من مانے، جابرانہ یا غیر منصفانہ استعمال خصوصاً ضبطی جائیداد (فورکلوژر) اور قرض وصولی کی کارروائیوں کے حوالے سے تحفظ فراہم کرنا تھا، تفصیلی غور و خوض کے بعد کمیٹی نے سفارش کی کہ قائمہ کمیٹی کی رپورٹ کے مطابق بل کو قومی اسمبلی سے منظور کیا جا سکتا ہے۔

(جاری ہے)

نئے شامل کئے گئے سیکشن 15اے کی شق وار جانچ کے دوران کمیٹی نے پہلے، دوسرے اور حتمی نوٹس کے اجراء سے متعلق مجوزہ طریقہ کار کا جائزہ لیا جن میں مزید وصولی کارروائی شروع کرنے سے قبل کم از کم تیس روزہ نوٹس مدت مقرر کرنے کی تجویز شامل تھی۔کمیٹی نے رہن سے متعلق واجبات کی ری سٹرکچرنگ، ری شیڈولنگ اور تصفیے سے متعلق شقوں پر بھی غور کیا اور اس تشویش کا اظہار کیا کہ مالیاتی اداروں کی جانب سے ایسے معاملات پر فیصلے میں غیر ضروری تاخیر کے باعث قرض لینے والے غیر معینہ مدت تک انتظار کی صورتحال کا شکار نہ ہوں۔

چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ مالیاتی اداروں اور قرض لینے والوں دونوں کے حقوق کے درمیان منصفانہ اور متوازن توازن برقرار رکھنا ضروری ہے۔ کمیٹی نے ہائوسنگ فنانس سے متعلق مجوزہ ضبطی جائیداد (فورکلوژر) کے طریقہ کار پر بھی تفصیلی بحث کی اور اس خدشے کا اظہار کیا کہ اگر مناسب قانونی تحفظات شامل نہ کیے گئے تو مجوزہ فریم ورک قرض لینے والوں اور عام شہریوں کے لیے سخت اور نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

کمیٹی نے 13 مئی 2026ء کو منعقد ہونے والے اپنے گزشتہ اجلاس کے منٹس کی منظوری بھی دی۔ اجلاس میں مرزااختیاربیگ،شرمیلافاروقی،نفیسہ شاہ،محمدجاویدحنیف خان اوربلال فاروق تارڑ نے شرکت کی۔ وزیر مملکت برائے خزانہ و محصولات بلال اظہرکیانی، وزارت قانون و انصاف کے سیکرٹری، فنانس ڈویژن، لاء ڈویژن اور سٹیٹ بینک کے سینئر حکام بھی اجلاس میں شریک ہوئے۔