پاکستان کے پانڈا بانڈ نے نئی تاریخ رقم کردی

پانڈا بانڈز میں تاریخی کامیابی، پاکستان کو 2.5 فیصد شرح سود پر ریکارڈ سستا قرض مل گیا

جمعہ 15 مئی 2026 14:55

پاکستان کے پانڈا بانڈ نے نئی تاریخ رقم کردی
کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 15 مئی2026ء) پاکستان نے عالمی مالیاتی منڈی میں نئی تاریخ رقم کرتے ہوئے پہلی مرتبہ چینی کرنسی میں پانڈا بانڈز جاری کرکے ریکارڈ کامیابی حاصل کرلی، جس کے بعد مستقبل میں عالمی بانڈ مارکیٹ سے سستے اور آسان قرضوں کی راہ مزید ہموار ہوگئی ہے۔تفصیلات کے مطابق پاکستان نے دنیا کی دوسری بڑی آف شور کیپٹل مارکیٹ میں پہلی بار چینی یوآن میں پانڈا بانڈز فروخت کرنے کی پیشکش کی، جس پر عالمی سرمایہ کاروں کی جانب سے غیرمعمولی دلچسپی کا اظہار کیا گیا۔

سرمایہ کاروں کے بھرپور اعتماد کے نتیجے میں پاکستان کو توقعات سے کہیں بہتر اور تاریخی رسپانس ملا۔پاکستان نے ابتدائی مرحلے میں ایک ارب 75 کروڑ یوآن مالیت کے پانڈا بانڈز فروخت کیے، جن کی مالیت تقریبا 25 کروڑ امریکی ڈالر بنتی ہے۔

(جاری ہے)

ان بانڈز پر پاکستان صرف 2.5 فیصد سالانہ شرح سود ادا کرے گا، جو ملکی تاریخ میں عالمی بانڈ مارکیٹ سے حاصل کیا جانے والا سب سے سستا قرض قرار دیا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق عالمی سرمایہ کاروں نے پاکستان کو مجموعی طور پر 8.8 ارب یوآن، یعنی تقریبا 1.26 ارب امریکی ڈالر تک قرض فراہم کرنے کی پیشکشیں کیں، جو حکومت کی طلب سے پانچ گنا زیادہ ہیں۔وفاقی وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد کے مطابق پاکستانی حکام کو خود بھی اتنی بڑی سرمایہ کاری اور اتنی کم شرح سود کی توقع نہیں تھی، کیونکہ ابتدائی اندازوں میں ساڑھے تین سے چار فیصد تک شرح سود متوقع تھی، تاہم عالمی سرمایہ کاروں نے پاکستان پر غیرمعمولی اعتماد کا اظہار کیا۔

تین سالہ ساورن گارنٹی کے حامل پانڈا بانڈز پر شرح سود ڈھائی فیصد فکس رہے گی، جبکہ حکومت نے آئندہ دو برسوں میں مرحلہ وار پانڈا بانڈز کے ذریعے ایک ارب ڈالر تک قرض حاصل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ پانڈا بانڈز کی کامیاب فروخت سے نہ صرف پاکستان کا عالمی مالیاتی تشخص مضبوط ہوا ہے بلکہ مستقبل میں عالمی سرمایہ کاروں کی جانب سے مزید کم شرح سود پر بڑی سرمایہ کاری کے امکانات بھی روشن ہوگئے ہیں۔