ایچ آئی وی ویکسین آگاہی کا عالمی دن آج منایا جائے گا، مہلک مرض کے خاتمے کے لیے تحقیق اور شعور اجاگر کرنے کی کوششیں تیز

ایچ آئی وی کے مریضوں کے ساتھ ہمدردانہ، مساوی اور مثبت رویہ اختیار کیا جائے تاکہ وہ بلا خوف و جھجھک علاج اور رہنمائی حاصل کرسکیں،ماہرین

اتوار 17 مئی 2026 13:20

پنگریو(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 17 مئی2026ء) دنیا بھر میں آج 18 مئی کو ایچ آئی وی ویکسین آگاہی کا عالمی دن منایا جائے گا۔ اس دن کے منانے کا مقصد ایچ آئی وی وائرس، اس سے بچا، ویکسین کی تیاری، طبی تحقیق اور عوام میں شعور و آگاہی کو فروغ دینا ہے تاکہ اس مہلک مرض کے پھیلا کو روکا جاسکے اور متاثرہ افراد کو بہتر طبی سہولیات فراہم کی جاسکیں۔

طبی ماہرین کے مطابق ایچ آئی وی یعنی ہیومن امیونو ڈیفیشنسی وائرس انسانی جسم کے مدافعتی نظام کو کمزور کردیتا ہے، جس کے باعث جسم مختلف بیماریوں کے خلاف مزاحمت کھو دیتا ہے۔ بروقت تشخیص اور علاج نہ ہونے کی صورت میں یہ وائرس ایڈز کی شکل اختیار کر لیتا ہے، جو انسانی صحت کے لیے انتہائی خطرناک ثابت ہوسکتا ہے۔ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی ویکسین آگاہی دن پہلی مرتبہ 1998 میں منایا گیا تھا، جس کا بنیادی مقصد اس بیماری کے خلاف عالمی سطح پر جاری سائنسی تحقیق کو اجاگر کرنا اور عوام کو احتیاطی تدابیر سے آگاہ کرنا تھا۔

(جاری ہے)

اقوام متحدہ اور ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق دنیا بھر میں کروڑوں افراد ایچ آئی وی سے متاثر ہوچکے ہیں جبکہ ہر سال لاکھوں نئے کیسز رپورٹ ہوتے ہیں۔طبی ماہرین کے مطابق جدید ادویات کی بدولت ایچ آئی وی کے مریض اب طویل اور نسبتا بہتر زندگی گزار سکتے ہیں، تاہم اس وائرس کے خلاف موثر ویکسین کی تیاری اب بھی عالمی سائنسدانوں کے لیے ایک بڑا چیلنج بنی ہوئی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی زیادہ تر غیر محفوظ جنسی تعلقات، متاثرہ خون کی منتقلی، نشہ آور انجیکشن کے مشترکہ استعمال اور متاثرہ ماں سے بچے میں منتقل ہوتا ہے۔ماہرین صحت کے مطابق احتیاطی تدابیر اختیار کرکے اس بیماری سے بڑی حد تک بچا ئوممکن ہے۔ محفوظ طبی طریقہ کار، اسکرین شدہ خون کا استعمال، صاف ستھرے انجکشن اور عوامی آگاہی مہمات وائرس کے پھیلا کو روکنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔

دنیا بھر میں اس دن کے موقع پر اسپتالوں، طبی اداروں، تعلیمی مراکز اور سماجی تنظیموں کے زیر اہتمام سیمینارز، آگاہی واکس، مفت طبی مشوروں، خون کے ٹیسٹ اور شعور بیدار کرنے کی مختلف تقریبات کا انعقاد کیا جارہا ہے۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ ایچ آئی وی سے متعلق غلط فہمیاں اور معاشرتی امتیاز آج بھی ایک بڑا مسئلہ ہیں، جس کے باعث کئی متاثرہ افراد علاج اور مشاورت سے گریز کرتے ہیں۔

سماجی ماہرین نے زور دیا ہے کہ ایچ آئی وی کے مریضوں کے ساتھ ہمدردانہ، مساوی اور مثبت رویہ اختیار کیا جائے تاکہ وہ بلا خوف و جھجھک علاج اور رہنمائی حاصل کرسکیں۔تحقیقی اداروں کے مطابق دنیا بھر میں ایچ آئی وی ویکسین کی تیاری کے لیے جدید تحقیق جاری ہے اور کئی تجرباتی ویکسینز کلینیکل آزمائش کے مراحل سے گزر رہی ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ وائرس کی مسلسل شکل بدلنے کی صلاحیت موثر ویکسین کی تیاری میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے، تاہم جینیاتی تحقیق، امیونوتھراپی اور جدید حیاتیاتی ٹیکنالوجی کی مدد سے مثبت پیش رفت سامنے آرہی ہے۔

پاکستان سمیت کئی ترقی پذیر ممالک میں ایچ آئی وی کے مریضوں کی تعداد میں اضافے پر طبی حلقوں نے تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کے مطابق آگاہی کی کمی، غیر معیاری طبی سہولیات، غیر محفوظ انجیکشنز اور خون کی ناقص اسکریننگ بیماری کے پھیلا کی بڑی وجوہات ہیں۔طبی ماہرین نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ دیہی اور شہری علاقوں میں مفت ٹیسٹنگ مراکز، علاج کی سہولیات اور آگاہی پروگرامز کو مزید موثر بنایا جائے تاکہ اس مہلک مرض پر قابو پایا جاسکے۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق بروقت تشخیص، مستقل علاج، احتیاط اور عوامی شعور ہی ایچ آئی وی کے پھیلا کو روکنے اور متاثرہ افراد کو صحت مند زندگی فراہم کرنے کی بنیادی کنجی ہیں۔ ماہرین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عالمی تعاون، سائنسی تحقیق اور موثر آگاہی مہمات کے ذریعے مستقبل میں ایچ آئی وی کے مکمل خاتمے کا خواب حقیقت میں بدلا جاسکتا ہے۔