وزیر خزانہ سے بلال بن ثاقب و دیگر کی ملاقات ،نیا پاکستان سرٹیفکیٹس کی ٹوکنائزیشن پر تفصیلی غور

پاکستان جدید اور مستقبل بین مالیاتی ٹیکنالوجیز کے امکانات کا جائزہ لینے کیلئے پرعزم ہے ، وزیر خزانہ کی گفتگو

پیر 18 مئی 2026 23:41

وزیر خزانہ سے بلال بن ثاقب و دیگر کی ملاقات ،نیا پاکستان سرٹیفکیٹس ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 18 مئی2026ء) وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہاہے کہ پاکستان جدید اور مستقبل بین مالیاتی ٹیکنالوجیز کے امکانات کا جائزہ لینے کیلئے پرعزم ہے جو معیشت کی جدید کاری، سرمایہ کاروں کی شمولیت میں وسعت اور مالیاتی رسائی کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں۔وہ پیرکویہاں وزیر مملکت اور پاکستان ورچوئل اثاثہ جاتی ریگولیٹری اتھارٹی(پیورا) کے چیئرمین بلال بن ثاقب اور وزیر خزانہ کے مشیر برائے قرضہ جات مینجمنٹ عمر خان کے ساتھ ایک اہم اجلاس میں گفتگو کررہے تھے۔

اجلاس میں خودمختار قرضہ جاتی آلات اور نیا پاکستان سرٹیفکیٹس کی ٹوکنائزیشن پر تفصیلی غور کیا گیا۔یہ اجلاس پاکستان میں اعلیٰ سطح کے حکومتی مشاورت کے ابتدائی مراحل میں سے ایک تھا جس میں خاص طور پر خودمختار مالیاتی اثاثوں کی ٹوکنائزیشن اور بلاک چین انفراسٹرکچر کے ذریعے کیپٹل مارکیٹس کو جدید خطوط پر استوار کرنے، سرمایہ کاروں کی رسائی بڑھانے اور پاکستان کو نئی عالمی ڈیجیٹل معیشت کے مالیاتی ڈھانچے میں موثر شمولیت دلانے کے امکانات کا جائزہ لیا گیا۔

(جاری ہے)

اجلاس کے دوران ممکنہ مالیاتی ڈھانچوں، عملی نفاذ کے طریقہ کار، ریگولیٹری تقاضوں اور پاکستان کے ابھرتے ہوئے مالیاتی نظام میں ٹوکنائزڈ خودمختار مالیاتی آلات متعارف کرانے کے لیے آئندہ اقدامات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔گفتگو کا ایک مرکزی نکتہ عالمی سطح پر خودمختار اور نیم خودمختار قرضہ جاتی آلات کی ٹوکنائزیشن کے موجودہ تجربات اور نظائر تھے اور اس بات کا جائزہ لیا گیا کہ پاکستان کس طرح عالمی مالیاتی منڈیوں کے تسلیم شدہ نظام کے مطابق ایک موزوں ماڈل اختیار کر سکتا ہے۔

زیر غور ماڈل جسے عموماً ڈیجیٹلی نیٹو نوٹ کہا جاتا ہے، ایک منظم اور ریگولیٹڈ بلاک چین پلیٹ فارم پر اجراء کے وقت ہی خودمختار بانڈ تخلیق کرنے کی سہولت فراہم کرتا ہے جہاں اسی روز سیٹلمنٹ ممکن ہوتی ہے اور بعد ازاں اسے ان روایتی عالمی کلیئرنگ اور سیٹلمنٹ نظاموں سے مربوط کیا جاتا ہے جو پاکستان کے موجودہ یورو بانڈ پروگرام کی خدمت انجام دیتے ہیں، اس ماڈل کے تحت بانڈ پر منافع ، ثانوی مارکیٹ میں خرید و فروخت اور اصل رقم کی واپسی روایتی عالمی مالیاتی انفراسٹرکچر کے ذریعے ہی جاری رہتی ہے جس سے پاکستان کے روایتی خودمختار بانڈز میں سرمایہ کاری کرنے والے ادارہ جاتی سرمایہ کاروں کے ساتھ مکمل مطابقت اور ہم آہنگی برقرار رہتی ہے۔

اجلاس میں نیا پاکستان سرٹیفکیٹس کی ٹوکنائزیشن پر بھی غور کیا گیا تاکہ بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں اور عالمی سطح کے ریٹیل سرمایہ کاروں کے لیے سرمایہ کاری کے مواقع مزید آسان، قابل رسائی اور ڈیجیٹل بنیادوں پر مربوط بنائے جا سکیں اور انہیں عالمی مالیاتی منڈیوں سے زیادہ موثر انداز میں جوڑا جا سکے۔اجلاس میں بتایاگیا کہ روشن ڈیجیٹل اکائونٹ پروگرام کے ذریعہ اب تک بیرون ملک پاکستانیوں اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں نے مجموعی طور پر تقریباً 13 ارب امریکی ڈالر کی ترسیلات زرکی ہے جس کا بڑا حصہ پاکستان کی معیشت میں استعمال کیا گیا۔

اجلاس میں واضح کیا گیا کہ مجوزہ ڈیجیٹل تقسیم کاری کا مقصد اس سرمایہ کاری کے نظام کو مکمل ریگولیٹری نگرانی کے تحت مزید وسیع عالمی سرمایہ کاروں تک توسیع دینا ہے۔ اجلاس میں اس پہلو پر بھی غور کیا گیا کہ بلاک چین سے چلنے والا مالیاتی انفراسٹرکچر کس طرح پاکستان کو عالمی مالیاتی نظام کے ساتھ مزید مربوط کر سکتا ہے اور مقامی مالیاتی مصنوعات و خودمختار قرضہ جاتی آلات کو پروگرام ایبل اور ڈیجیٹلی نیٹو مارکیٹس کے ذریعے وسیع بین الاقوامی سرمایہ کار برادری تک رسائی فراہم کر سکتا ہے۔

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہاکہ پاکستان جدید اور مستقبل بین مالیاتی ٹیکنالوجیز کے امکانات کا جائزہ لینے کے لیے پرعزم ہے جو معیشت کی جدید کاری، سرمایہ کاروں کی شمولیت میں وسعت اور مالیاتی رسائی کو مضبوط بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں، ٹوکنائزڈ خودمختار مالیاتی آلات پر جاری یہ گفتگو اس بات کو سمجھنے کی جانب ایک اہم ابتدائی قدم ہے کہ ابھرتا ہوا ڈیجیٹل انفراسٹرکچر پاکستان کی کیپٹل مارکیٹس کے مستقبل کی تشکیل میں کس طرح معاون ثابت ہو سکتا ہے۔

چیئرمین پیورابلال بن ثاقب نے بتایا کہ خودمختار بانڈز اور نیا پاکستان سرٹیفکیٹس کی ٹوکنائزیشن پر ہماری گفتگو دراصل اس تصور کو نئی شکل دینے کی کوشش ہے کہ پاکستان کس انداز میں سرمایہ حاصل کرتا ہے، سرمایہ کاروں کی شرکت کو وسعت دیتا ہے اور اپنی مالیاتی منڈیوں کو ابھرتی ہوئی ڈیجیٹل معیشت سے جوڑتا ہے۔ ان مصنوعات کی ٹوکنائزیشن انہیں بیرون ملک پاکستانیوں اور عالمی ریٹیل سرمایہ کاروں کے لیے زیادہ قابل رسائی بنا سکتی ہے، اس سے پاکستان کے لیے ایک زیادہ موثر، شفاف اور عالمی سطح سے منسلک مالیاتی انفراسٹرکچر کی بنیاد بھی فراہم کی جاسکتی ہے۔

اجلاس میں اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ پیورا، وزارت خزانہ اور سٹیٹ بینک آف پاکستان اس ایجنڈے کے ڈیزائن، گورننس، اور مرحلہ وار ترقی کے حوالے سے باہمی رابطہ اور تعاون جاری رکھیں گے،مناسب منظوریوں کے مراحل مکمل ہونے کے ساتھ ساتھ اس حوالے سے مزید اعلانات بھی کیے جائیں گے۔ دونوں جانب اس امر پر بھی اتفاق کیا گیا کہ خودمختار مالیاتی اثاثوں کی ٹوکنائزیشن سے متعلق ممکنہ فریم ورکس، عالمی تجربات، ریگولیٹری تقاضوں اور پائلٹ منصوبوں پر تکنیکی مشاورت اور ادارہ جاتی ہم آہنگی جاری رکھی جائے گی۔

یہ پیش رفت پاکستان کے اس وسیع تر وڑن کی عکاس ہے جس کا مقصد مالیاتی انفراسٹرکچر کو جدید بنانا، ڈیجیٹل اثاثہ جاتی ضابطہ کاری کو مضبوط کرنا اور پاکستان کو ذمہ دارانہ بلاک چین جدت طرازی کے ایک ابھرتے ہوئے عالمی مرکز کے طور پر متعارف کرانا ہے۔