پنجاب میں اپنی بجلی بنانے والے سولر پاور اور نجی جنریٹرز پر نئی الیکٹرسٹی ڈیوٹی لگانے کا فیصلہ

اس نئے اقدام کے تحت اپنے طور پر بجلی پیدا کرنے والے بڑے کمرشل اور صنعتی یونٹس کو اب حکومت کو ڈیوٹی ادا کرنا ہوگی، 1ہزار 177 صنعتی و کمرشل مقامات دائرہ کار میں آئیں گے، فریم ورک تیار

Sajid Ali ساجد علی پیر 1 جون 2026 13:42

پنجاب میں اپنی بجلی بنانے والے سولر پاور اور نجی جنریٹرز پر نئی الیکٹرسٹی ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جون2026ء) پنجاب حکومت نے صوبے میں نجی بجلی پیدا کرنے والے ذرائع پر بھی ٹیکس عائد کرنے کی تیاری کرلی، جس کے تحت حکومت کی جانب سے صنعتی اور تجارتی صارفین کے نجی جنریٹرز اور سولر پاور سسٹمز پر نئی الیکٹرسٹی ڈیوٹی لگانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ دنیا نیوز کے مطابق پنجاب حکومت نے صوبے بھر میں نجی جنریٹرز اور سولر پاور پر نئی الیکٹرسٹی ڈیوٹی عائد کرنے کا فریم ورک تیار کر لیا ہے، اس نئے اقدام کے تحت اپنے طور پر بجلی پیدا کرنے والے بڑے کمرشل اور صنعتی یونٹس کو اب حکومت کو ڈیوٹی ادا کرنا ہوگی، صنعتی اور کمرشل صارفین پر 4 پیسے فی یونٹ کے حساب سے نئی الیکٹرسٹی ڈیوٹی عائد کی جائے گی، پنجاب حکومت کا یہ نیا قانون صوبے کے 1 ہزار 177 صنعتی اور کمرشل مقامات پر لاگو ہوگا جو اس نئی ڈیوٹی کے دائرہ کار میں آئیں گے۔

(جاری ہے)

بتایا گیا ہے کہ حکومت نے سولر پاور سسٹمز سمیت تمام بڑے سیلف جنریشن سسٹمز کو باقاعدہ ریکارڈ پر رکھنے کا بھی فیصلہ کیا ہے، ٹیکس نیٹ اور مانیٹرنگ کو وسیع کرنے کے لیے یہ فیصلہ کیا گیا ہے، تاکہ صوبے میں نجی طور پر پیدا ہونے والی بجلی کا مکمل ڈیٹا برقرار رکھا جا سکے، پنجاب حکومت کے اس فیصلے سے جہاں سرکاری خزانے میں ریونیو بڑھے گا، وہیں نجی طور پر سولر اور جنریٹرز استعمال کرنے والی صنعتوں اور کمرشل اداروں کے اخراجات میں بھی اضافہ متوقع ہے۔