بجلی اور گیس کا مجموعی گردشی قرضہ 5100 ارب روپے تک پہنچ گیا

پاکستان میں صرف گیس سیکٹر کا گردشی قرض تقریباً 3400 ارب روپے تک پہنچ چکا ، بجلی کا گردشی قرضہ بھی مزید بڑھ گیا

muhammad ali محمد علی پیر 1 جون 2026 19:55

بجلی اور گیس کا مجموعی گردشی قرضہ 5100 ارب روپے تک پہنچ گیا
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 01 جون2026ء) بجلی اور گیس کا مجموعی گردشی قرضہ 5100 ارب روپے تک پہنچ گیا، پاکستان میں صرف گیس سیکٹر کا گردشی قرض تقریباً 3400 ارب روپے تک پہنچ چکا ، بجلی کا گردشی قرضہ بھی مزید بڑھ گیا۔ تفصیلات کے مطابق ملک کے توانائی سیکٹر کے گردشی قرضے میں تشویش ناک اضافہ ہونے کا انکشاف ہوا ہے۔ سامنے آنے والے اعداد و شمار کے مطابق بجلی اور گیس کا مجموعی گردشی قرضہ 5100 ارب روپے تک پہنچ گیا ہے جو گزشتہ برس تین ہزار 500ارب روپے تھا۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق حکومت نے حال ہی میں آئی ایم ایف کو گیس کے شعبے کا گردشی قرضہ ختم کرنے کا پلان پیش کیا جس میں نئی لیوی عائد کرنے کی تجویز دی گئی۔ آئی ایم ایف نے گیس گردشی قرضے کو توانائی شعبے پر بڑا دباؤ قرار دیتے ہوئے اس کے حل کے لیے مؤثر اقدامات پر زور دیا۔

(جاری ہے)

حکومت کی جانب سے گیس پر 5 روپے لیوی عائد کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے، جبکہ سرکاری کمپنیوں کے ڈیویڈنڈ کے ذریعے گیس گردشی قرض کم کرنے کا پلان بھی آئی ایم ایف کے سامنے رکھا گیا۔

بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں گیس سیکٹر کا گردشی قرض تقریباً 3400 ارب روپے تک پہنچ چکا ہے، جبکہ او جی ڈی سی ایل، پی پی ایل اور دیگر کمپنیوں کے بھی تقریباً 150 ارب روپے واجب الادا ہیں، جس کے باعث توانائی شعبے پر مالی دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے۔ اس تمام صورتحال میں حکومت نے سالانہ 35 ایل این جی کارگوز عالمی مارکیٹ میں فروخت کرنے کا فیصلہ بھی پلان کا حصہ بنایا ہے۔ ایل این جی کارگوز کی فروخت سے سالانہ تقریباً 160 ارب روپے حاصل کرنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے، جس سے گردشی قرضے کے دباؤ میں کمی لانے کی کوشش کی جائے گی۔