وفاقی وزیر صحت کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس، مقامی ویکسین سازی تیز کرنے کی ہدایت

پیر 1 جون 2026 16:40

وفاقی وزیر صحت کی زیرِ صدارت اعلیٰ سطحی اجلاس، مقامی ویکسین سازی تیز ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 01 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت وزارتِ قومی صحت میں ایک اعلیٰ سطحی اجلاس منعقد ہوا، جس میں وفاقی سیکرٹری صحت، ایڈیشنل سیکرٹری، سی ای او ڈریپ، سی ای او نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ (این آئی ایچ) سمیت وزارتِ صحت کے سینئر حکام نے شرکت کی۔اجلاس میں جنیوا میں منعقدہ ورلڈ ہیلتھ اسمبلی کے دوران ہونے والی اہم ملاقاتوں، فیصلوں اور بین الاقوامی شراکت داریوں پر عملدرآمد کے حوالے سے پیش رفت کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔

اس موقع پر وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے ہدایت کی کہ عالمی سطح پر کیے گئے وعدوں اور قائم ہونے والی شراکت داریوں کو بروقت اور مؤثر انداز میں عملی شکل دی جائے تاکہ پاکستان کے صحت کے شعبے کو زیادہ سے زیادہ فائدہ پہنچایا جا سکے۔

(جاری ہے)

اجلاس میں پاکستان میں ویکسین کی مقامی سطح پر تیاری کے حوالے سے جاری پیش رفت پر بھی غور کیا گیا۔ وزیرِ صحت نے ہدایت کی کہ انڈونیشیا کے ساتھ ویکسین سازی کے شعبے میں ہونے والے معاہدے کو حتمی شکل دینے کے لیے تمام ضروری اقدامات جلد از جلد مکمل کیے جائیں۔

مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ویکسین کی مقامی تیاری کے لیے انڈونیشیا پاکستان کا ایک اہم اور قابلِ اعتماد شراکت دار ہے۔ انہوں نے ڈریپ اور نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کو ہدایت کی کہ مقامی سطح پر ویکسین کی تیاری کے تمام ضروری مراحل اور انتظامات کو تیز کیا جائے۔وفاقی وزیرِ صحت نے کہا کہ ملک میں تیرہ اہم بیماریوں کے خلاف ویکسین کی مقامی تیاری وقت کی اہم ضرورت بن چکی ہے، جس سے نہ صرف قومی صحت کے نظام کو مضبوط بنایا جا سکے گا بلکہ ویکسین کی دستیابی اور خود کفالت میں بھی اضافہ ہوگا۔

اجلاس میں گاوی کے تحت جاری ویکسین پروگرامز کی مستقبل کی فنڈنگ اور پائیداری کے مختلف پہلوؤں پر بھی غور کیا گیا۔مزید برآں، نیشنل ہیلتھ سپورٹ پروگرام کی پیش رفت کا جائزہ لیتے ہوئے وزیرِ صحت نے اسے حکومت کا فلیگ شپ پروگرام قرار دیا اور کہا کہ اس پروگرام کے ذریعے عوام کو معیاری اور بہتر صحت کی سہولیات کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وزارتِ صحت عوام کی فلاح و بہبود اور صحت کے شعبے میں پائیدار اصلاحات کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے گی۔