اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 13 جون 2026ء) منگل کے روز شائع ہونے والی اس تحقیق کے مطابق، 2025 کے دوران دنیا بھر میں کم از کم ایک ریاست کی شمولیت والے 65 تنازعات ریکارڈ کیے گئے، جو 1946 کے بعد اب تک کی بلند ترین تعداد ہے۔
پیس ریسرچ انسٹیٹیوٹ اوسلو (پی آر آئی او) کی سالانہ 'کانفلکٹ ٹرینڈز‘ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 2025 سرد جنگ کے خاتمے کے بعد تنازعات کے حوالے سے تیسرا سب سے ہلاکت خیز سال بھی رہا۔
اس عرصے میں صرف 1994 اور 2021 ایسے سال تھے جن میں جنگوں اور مسلح تنازعات کے باعث اس سے زیادہ اموات ہوئیں۔رپورٹ کی محقق سیری آس روسٹاد نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا، ''عام طور پر میں ان اعداد و شمار میں کوئی نہ کوئی مثبت پہلو تلاش کر لیتی ہوں، لیکن اس سال کے اعداد و شمار واقعی چونکا دینے والے ہیں۔
(جاری ہے)
‘‘
رپورٹ کے مطابق، ریاستوں کے درمیان براہِ راست ہونے والے تنازعات کی تعداد بھی گزشتہ 80 برسوں کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔
2024 کے مقابلے میں ان کی تعداد دوگنی ہو کر آٹھ ہو گئی، جن میں بھارت اور پاکستان، افغانستان اور پاکستان، کمبوڈیا اور تھائی لینڈ کے درمیان جھڑپیں، جبکہ روس کی یوکرین پر جاری جارحیت بھی شامل ہے۔افریقہ سب سے زیادہ متاثر براعظم
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ مجموعی طور پر 35 ممالک مختلف تنازعات میں ملوث رہے، تاہم ان میں سے نصف سے بھی کم ایسے تھے جو صرف ایک تنازعے کا حصہ تھے۔
مثال کے طور پر اسرائیل بیک وقت کئی مختلف محاذوں پر سرگرم رہا، جن میں غزہ، شام، لبنان، ایران اور یمن میں حوثی باغیوں کے خلاف کارروائیاں شامل ہیں۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ''یہ رجحان تنازعات کی نوعیت میں بڑھتی ہوئی پیچیدگی کی نشاندہی کرتا ہے، جہاں زیادہ فریق مختلف محاذوں پر شامل ہو رہے ہیں، اور اس کے جنگی تنازعات کے تجزیے اور ان سے نمٹنے کی حکمتِ عملی پر اہم اثرات مرتب ہوتے ہیں۔
‘‘رپورٹ کے مطابق، افریقہ وہ براعظم رہا جو ریاستی بنیادوں پر ہونے والے تنازعات سے سب سے زیادہ متاثر ہوا، جبکہ اس کے بعد بالترتیب ایشیا، مشرقِ وسطیٰ، امریکہ اور یورپ کا نمبر آتا ہے۔
پی آر آئی او کی یہ تحقیق سویڈن کی اپسالا یونیورسٹی سے وابستہ اپسالا کانفلکٹ ڈیٹا پروگرام کے جمع کردہ اعداد و شمار پر مبنی ہے۔
اس تحقیق میں منظم تشدد کو تین بنیادی اقسام میں تقسیم کیا گیا ہے: ایسی لڑائیاں جن میں کم از کم ایک ریاست شامل ہو، غیر ریاستی گروہوں کے درمیان تنازعات، اور شہری آبادی کے خلاف یک طرفہ تشدد۔
رپورٹ کے مطابق، 2025 کے دوران 75 غیر ریاستی تنازعات ریکارڈ کیے گئے، جو 2024 میں ریکارڈ ہونے والے 79 تنازعات کے مقابلے میں معمولی کمی کو ظاہر کرتے ہیں۔ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ گزشتہ سال میکسیکو کے منشیات فروش کارٹیلز کے درمیان ہونے والے مہلک تشدد میں خاصی نمایاں کمی دیکھنے میں آئی۔
سرد جنگ کے خاتمے کے بعد تیسرا سب سے خونریز سال
رپورٹ کے مطابق، 2025 کے دوران جنگوں اور مسلح تنازعات سے متعلق واقعات میں تقریباً 2 لاکھ 45 ہزار افراد ہلاک ہوئے، جس کے باعث یہ سال سرد جنگ کے خاتمے کے بعد تیسرا سب سے ہلاکت خیز سال قرار پایا۔
ان ہلاکتوں کی بڑی وجوہات میں روس کی یوکرین کے خلاف جنگ، سوڈان میں جاری تشدد، اور غزہ میں اسرائیل کی بمباری کی مہم شامل ہیں۔رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ ان مجموعی ہلاکتوں میں سے تقریباً 76 ہزار 500 اموات ایسے حملوں کے نتیجے میں ہوئیں جن میں شہری آبادی کو براہِ راست نشانہ بنایا گیا۔ یہ تعداد 2024 میں ریکارڈ ہونے والی 14 ہزار 200 شہری ہلاکتوں کے مقابلے میں انتہائی نمایاں اضافہ ظاہر کرتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق، سرد جنگ کے بعد صرف 1994 اور 2021 ایسے سال تھے جن میں اس سے زیادہ جانیں ضائع ہوئیں۔ 1994 میں روانڈا میں ہونے والی نسل کشی کے دوران تقریباً 8 لاکھ افراد قتل کیے گئے تھے، جبکہ 2021 کی بلند ہلاکتوں کی شرح کی بڑی وجہ ایتھوپیا کے علاقے ٹیگرائے میں جاری خانہ جنگی تھی، جہاں 2020 سے 2022 کے درمیان لاکھوں افراد جان سے گئے۔
رپورٹ کی محقق سیری آس روسٹاد کے مطابق، ''گزشتہ پانچ یا چھ برسوں میں جو کچھ ہوا ہے، وہ یہ ہے کہ ایک ہی وقت میں کئی بڑے تنازعات جاری ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ایک بحران ختم ہونے سے پہلے دوسرا اس کی جگہ لے لیتا ہے۔
دنیا کو کسی وقفے کا موقع ہی نہیں مل رہا۔ ‘‘انہوں نے مزید کہا، ''یہ ماضی کے مقابلے میں مختلف صورت حال ہے، کیونکہ اب عالمی سطح پر تنازعات کی شدت مسلسل بلند سطح پر برقرار ہے۔‘‘
ادارت: کشور مصطفیٰ