کھجور کے درخت پر چڑھ کر لائیو سٹریمنگ کرنے والا ملزم 26 وارداتوں میں مطلوب نکلا

تین مقدمات میں عدالت سے اشتہاری قرار، عدالت نے ملزم کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرلیا

Sajid Ali ساجد علی ہفتہ 13 جون 2026 17:16

کھجور کے درخت پر چڑھ کر لائیو سٹریمنگ کرنے والا ملزم 26 وارداتوں میں ..
ڈیرہ غازی خان (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 13 جون2026ء) پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان میں 60 فٹ اونچے کھجور کے درخت پر چڑھے ملزم کا عدالت نے 3 روزہ ریمانڈ منظور کرلیا۔ اطلاعات کے مطابق پنجاب کے ضلع ڈیرہ غازی خان کے تھانہ چوٹی کی حدود میں 10 جون کی تپتی دوپہر کو پولیس ڈکیتی اور راہزنی کی 26 وارداتوں میں مطلوب اشتہاری ملزم کلیم اللہ ڈمرہ کو گرفتار کرنے اس کے گھر بستی ملانہ پہنچی، تو ملزم موٹرسائیکل چھوڑ کر بھاگا اور 60 فٹ اونچے کھجور کے درخت پر چڑھ گیا، ملزم نے ناصرف پولیس اور ریسکیو کو گھنٹوں پریشان کیا بلکہ درخت کے اوپر بیٹھ کر نیچے کھڑی پولیس کی لائیو ویڈیوز بنا کر سوشل میڈیا پر شیئر بھی کرتا رہا۔

سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیوز میں تھانہ چوٹی کے ایس ایچ او انسپکٹر حمید اللہ اور درخت پر چڑھے ملزم کے درمیان دلچسپ نوک جھونک دیکھی گئی، ایس ایچ او ملزم کو وارننگ دیتے ہیں کہ "کلیم پانچ منٹ میں درخت سے نیچے اتر آؤ ورنہ ہم تمہارے خلاف کارروائی کریں گے"، اس پر 60 فٹ بلندی پر بیٹھا کلیم ڈمرہ نیچے کھڑی پولیس کو جواب دیتا ہے کہ "میرے خلاف جھوٹے مقدمات درج ہیں، میں نیچے نہیں آؤں گا"۔

(جاری ہے)

یہی نہیں بلکہ کلیم ڈمرہ نے اس دوران کمال ہوشیاری دکھائی اور درخت کے اوپر موبائل استعمال کرتے ہوئے نیچے کھڑے بے بس پولیس اہلکاروں کی ویڈیوز بنا کر انٹرنیٹ پر وائرل کردیں، پولیس کی پانچ منٹ کی وارننگ جب ڈیڑھ گھنٹے میں بھی کام نہ آئی، تو ریسکیو 1122 کو مدد کے لیے بلایا گیا، کوٹ چھٹہ سے آنے والی ریسکیو ٹیم نے پہلے سیڑھی لگا کر کلیم تک پہنچنے کی کوشش کی، لیکن کھجور کا درخت اتنا اونچا تھا کہ سیڑھی چھوٹی پڑ گئی، تو ریسکیو ٹیم نے کھجور کے درخت کو کاٹنا شروع کیا، جس کے بعد ملزم کو نیچے اتارا اور ابتدائی طبی امداد کے بعد پولیس کے حوالے کر دیا۔

ایف آئی آر کے متن میں کہا گیا ہے کہ جیسے ہی کلیم ڈمرہ درخت سے نیچے اترا، اس نے پولیس سے مزاحمت شروع کر دی، ملزم کلیم کو چھڑانے کے لیے اس کے ساتھیوں ندیم، یقین محمد، امین، حیدر علی و دیگر 9 مسلح افراد نے پستولوں اور ڈنڈوں سے پولیس پارٹی پر دھاوا بول دیا، حملہ آوروں نے پولیس پر سیدھی فائرنگ کی جو سرکاری گاڑی کو لگی، اور وہ پولیس کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دیتے ہوئے کلیم کو چھوڑ کر فرار ہوگئے۔

معلوم ہوا ہے کہ ایس ایچ او حمید اللہ کی مدعیت میں کلیم اور اس کے ساتھیوں کے خلاف اقدامِ قتل (324)، پولیس پر حملہ (353)، سرکاری کام میں مداخلت (186) اور نقصِ امن سمیت تعزیراتِ پاکستان کی 8 سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے، چٹھہ سرکل کے ڈی ایس پی کبیر احمد نے بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ کلیم ڈمرہ ایک عادی اور ریکارڈ یافتہ مجرم ہے، ملزم کے خلاف ڈکیتی، راہزنی اور منشیات کے 26 مقدمات درج ہیں اور وہ 3 مقدمات میں اشتہاری ہے، وہ پہلے بھی ایک پولیس مقابلے میں زخمی ہو چکا ہے، جبکہ اس کا پورا خاندان ہی جرائم پیشہ ہے اور مختلف کیسز میں مطلوب ہے۔

ڈی ایس پی نے انکشاف کیا کہ ملزم اس سے قبل بھی 3 سے 4 بار ایسا کر چکا ہے کہ جب بھی پولیس چھاپہ مارتی، یہ بھاگ کر کھجور کے اونچے درخت پر چڑھ جاتا تھا اور پولیس ناکام لوٹ جاتی تھی، تاہم اس بار گھیرا تنگ کر کے اسے دھر لیا گیا، پولیس نے ملزم کو جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کرکے اس کا 3 روزہ جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا ہے، اب ملزم سے مسروقہ مال کی برآمدگی اور اس کے گینگ کے دیگر ارکان کی گرفتاری کے لیے تفتیش کی جا رہی ہے۔