Live Updates

ایران جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے بعد سفارتی مذاکرات کا ازسرِ نو جائزہ لینے لگا

بدھ 10 جون 2026 21:48

تہران(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - آن لائن۔ 10 جون2026ء) ایران کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ ان کا ملک بار بار ہونے والی جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کے بعد جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی مذاکرات کے مستقبل کا ازسرِ نو جائزہ لے رہا ہے۔ایرانی سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق اسماعیل بقائی نے کہا کہ سفارت کاری اور میدانِ جنگ ایک دوسرے سے الگ نہیں بلکہ ایران کے قومی مفادات اور سلامتی کے تحفظ سے جڑے ہوئے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں مذاکراتی عمل کے مستقبل کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔دریں اثنا ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی میں مزید اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹکام) نے دعویٰ کیا کہ امریکی افواج نے ایک ہیلی کاپٹر گرائے جانے کے ردعمل میں ایران کے اندر کارروائی کی۔

(جاری ہے)

سینٹکام کے مطابق یہ مشن ایران کی جانب سے مبینہ جارحیت کے جواب میں انجام دیا گیا۔

دوسری جانب ایرانی پاسدارانِ انقلاب نے الزام عائد کیا ہے کہ امریکی افواج نے جسک، سرک اور قشم کے مختلف مقامات کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں سرک میں ایک مواصلاتی ٹاور کو نقصان پہنچا جبکہ شہری آبادی کے لیے پانی ذخیرہ کرنے والے دو ٹینک تباہ ہو گئے۔پاسدارانِ انقلاب نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ اس نے طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائلوں کے ذریعے امریکی فوجی تنصیبات کے چار اہم اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں مبینہ طور پر ایف-35 طیاروں کے ہینگرز اور اردن کے علاقے الازرق میں واقع امریکی کمانڈ اینڈ کنٹرول مرکز شامل ہیں۔

اسماعیل بقائی نے کہا کہ ایران کی مسلح افواج جہاں ضروری سمجھیں گی دشمن کو بھرپور جواب دیں گی، جبکہ سفارتی محاذ پر بھی ریاستی ادارے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ ایران اپنے قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ضرورت پڑنے پر سفارت کاری اور دفاعی طاقت دونوں ذرائع استعمال کرے گا۔
Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات