قرض کے بدلے بیوی کو دوسرے مرد کے پاس بھیجنے والے شوہر کی ضمانت منظور

خواتین کے تحفظ کیلئے پارلیمنٹ ازدواجی استحصال سے متعلق قانون متعارف کرائے، طویل تاخیر، میڈیکل و ویڈیو شواہد کی عدم دستیابی اور شریک ملزم کی ضمانت پر ملزم کو رعایت دی گئی؛ لاہور ہائیکورٹ کا فیصلہ

Sajid Ali ساجد علی جمعرات 11 جون 2026 13:59

قرض کے بدلے بیوی کو دوسرے مرد کے پاس بھیجنے والے شوہر کی ضمانت منظور
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جون2026ء) لاہور ہائیکورٹ نے مبینہ طور پر قرض کی رقم ادا نہ کرنے کے بدلے اپنی ہی بیوی کو دوسرے مرد کے حوالے کرنے والئے ملزم شوہر کی ضمانت منظور کرلی۔ اطلاعات کے مطابق لاہور ہائیکورٹ نے قرض کی عدم ادائیگی کے بدلے اپنی بیوی کو مبینہ طور پر دوسرے مرد کے پاس بھیجنے والے ملزم شوہر کی ضمانتِ بعد از گرفتاری منظور کی ہے، عدالتِ عالیہ کے جج جسٹس امجد رفیق نے کیس کی سماعت کرتے ہوئے ملک میں خواتین کے ازدواجی استحصال کو روکنے کے لیے قانون سازی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

اس حوالے سے درج کرائے گئے مقدمے میں کہا گیا تھا کہ ملزم نے اپنی بیوی کی عزت کا سودا اس لیے کیا، کیوں کہ ملزم شوہر نے کسی دوسرے شخص سے قرض لے رکھا تھا اور رقم واپس نہ کر پانے کی صورت میں اس نے مبینہ طور پر اپنی سگی بیوی کو اس مرد کے پاس بھیج دیا۔

(جاری ہے)

معلوم ہوا ہے کہ جسٹس امجد رفیق نے کیس کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کے بعد ملزم کی ضمانت تو منظور کر لی، تاہم اس کی بنیادی وجوہات قانونی سقم اور شواہد کی کمی بنی، عدالت نے قرار دیا کہ واقعے کی رپورٹ اور ایف آئی آر کے اندراج میں ضرورت سے زیادہ اور طویل تاخیر کی گئی، جس کا فائدہ قانون کے مطابق ملزم کو ملا، کیس میں کسی بھی قسم کے ٹھوس میڈیکل شواہد یا ویڈیو ثبوت دستیاب نہیں ہیں جو جرم کو بلا شبہ ثابت کرسکیں۔

بتایا جارہا ہے کہ اس کیس میں نامزد مرکزی یا شریک ملزم کی ضمانت پہلے ہی منظور ہو چکی تھی، جس کی بنیاد پر عدالتِ عالیہ نے ملزم شوہر کی ضمانت بھی منظور کرلی، اگرچہ ملزم کو قانونی خامیوں کی وجہ سے ریلیف مل گیا، لیکن عدالت نے اس معاملے پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ریمارکس دیئے کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کو اس قسم کے گھناؤنے حالات کا سامنا ہے، خواتین کے حقوق اور ان کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے یہ وقت کی اہم ضرورت ہے کہ ملک کی پارلیمنٹ ازدواجی استحصال سے متعلق ایک نیا، جامع اور سخت قانون متعارف کرائے تاکہ کوئی بھی شوہر اپنی بیوی کو کسی بھی لالچ یا مجبوری کے تحت ڈھال یا متبادل کے طور پر استعمال نہ کر سکے۔