نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی اور میرٹ کی بنیاد پر مواقع دے کر پاکستان کو عالمی قیادت کی صف میں شامل کیا جا سکتا ہے، رانا مشہود

جمعرات 11 جون 2026 14:33

نوجوانوں کو جدید ٹیکنالوجی اور میرٹ کی بنیاد پر مواقع دے کر پاکستان ..
فیصل آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 11 جون2026ء) چیئرمین پرائم منسٹر یوتھ پروگرام رانا مشہود احمد خاں نے کہا ہے کہ پاکستان کے نوجوان ملک کی سب سے بڑی طاقت اور روشن مستقبل کی ضمانت ہیں، اسی لیے حکومت انہیں جدید علوم، مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت اور عالمی مواقع سے جوڑ کر قومی ترقی کا حقیقی معمار بنانے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نوجوان اگر عزم، مہارت اور مستقل مزاجی کو اپنا شعار بنا لیں تو نہ صرف اپنی تقدیر بدل سکتے ہیں بلکہ پاکستان کو بھی ترقی یافتہ ممالک کی صف میں شامل کر سکتے ہیں۔ وہ رفاہ انٹرنیشنل کالج فیصل آباد میں والنٹیئر فورس پاکستان (وی ایف پی ) کے زیر اہتمام منعقدہ ‘‘فیوچر یوتھ لیڈرز کانفرنس 2026’’ سے خطاب کر رہے تھے۔

(جاری ہے)

تقریب میں صدر فیصل آباد چیمبر آف کامرس فاروق یوسف شیخ، مذہبی و سیاسی رہنما کاشف نواز رندھاوا، چیئرمین ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سکولز خالد حیات کموکا، وزیراعظم یوتھ پروگرام کے خصوصی نمائندہ اسفندیار، صدر وی ایف پی عثمان رضا، ایگزیکٹو ڈائریکٹر رفاہ کالج بیرسٹر دانش امتیاز، سی ای او متین گروپ آف کمپنیز صہیب متین، کانفرنس ڈائریکٹر آمنہ کھوکھر سمیت مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات اور نوجوانوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔

رانا مشہود احمد خاں نے کہا کہ پرائم منسٹر یوتھ پروگرام نے 2011 میں ‘‘کل کے قائد’’ کا وژن متعارف کرایا تھا جس کا بنیادی مقصد نوجوانوں کو قیادت، کردار سازی اور قومی خدمت کے لیے تیار کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ کامیابی کا سفر خود احتسابی اور اپنے ساتھ مضبوط کمٹمنٹ سے شروع ہوتا ہے۔ نوجوان جب اپنے اہداف کے حصول کے لیے سنجیدگی، محنت اور مستقل مزاجی کا مظاہرہ کرتے ہیں تو ان کی کامیابی پورے معاشرے اور ملک کی ترقی کا سبب بنتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ دنیا تیزی سے مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹلائزیشن کے دور میں داخل ہو رہی ہے جبکہ پاکستان بھی اس شعبے میں جامع پالیسی سازی اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگ حکمت عملی پر کام کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نوجوانوں کو مواقع، پلیٹ فارم اور وسائل فراہم کر سکتی ہے لیکن ان مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھانا خود نوجوانوں کی ذمہ داری ہے۔

چیئرمین پرائم منسٹر یوتھ پروگرام نے کہا کہ فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور وزیراعظم محمد شہباز شریف کے مابین مؤثر تعاون کے نتیجے میں عالمی سطح پر پاکستان کا تشخص مزید مستحکم ہوا ہے اور سبز پاسپورٹ کے وقار میں بھی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کو ٹیکنالوجی، سرمایہ کاری اور افرادی قوت کے حوالے سے دنیا میں مثبت انداز میں دیکھا جا رہا ہے جس کے باعث نوجوانوں کے لیے بین الاقوامی مواقع میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ رواں سال 21 لاکھ نوجوانوں کو مختلف پروگرامز، سرگرمیوں اور منصوبوں کے ذریعے بااختیار بنانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اسی طرح امن و استحکام کے فروغ کے بعد ایک اعشاریہ آٹھ ملین نئی ملازمتوں کے مواقع پیدا کرنے اور تقریباً 20 لاکھ نوجوانوں کو جدید مہارتوں کی تربیت فراہم کرنے کے منصوبوں پر بھی کام جاری ہے۔رانا مشہود احمد خاں نے موسمیاتی تبدیلی کو عصر حاضر کا ایک بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے کہا کہ گرین اکانومی، ماحولیاتی تحفظ، ڈیزاسٹر مینجمنٹ اور پائیدار ترقی جیسے شعبوں میں نوجوانوں کے لیے وسیع امکانات موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر نوجوان جدید مہارتیں حاصل کریں تو وہ ماحولیاتی چیلنجز کو معاشی مواقع میں تبدیل کر سکتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ملک کے تمام علاقوں اور طبقات سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کو یکساں مواقع فراہم کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہے تاکہ کوئی بھی نوجوان ترقی کے سفر سے محروم نہ رہے۔ انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ ڈیجیٹل یوتھ ہب پر اپنی رجسٹریشن مکمل کریں جہاں انہیں سفارش کے بغیر مکمل میرٹ کی بنیاد پر تعلیم، روزگار، تربیت اور دیگر مواقع تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح میرٹ اور صلاحیت کی بنیاد پر آگے بڑھنے کے قائل تھے جبکہ وزیراعظم شہباز شریف بھی میرٹوکریسی کے اصول کو فروغ دے کر نوجوانوں کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے اور ملک کو خوشحالی کی راہ پر گامزن کرنے کے لیے کوشاں ہیں۔ انہوں نے نوجوانوں سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ پاکستان کا حال اور مستقبل دونوں انہی کے ہاتھ میں ہیں، اس لیے انہیں اپنی صلاحیتوں کو نکھار کر قومی تعمیر و ترقی میں بھرپور کردار ادا کرنا چاہیے۔

انہوں نے نوجوانوں میں قائدانہ صلاحیتوں کو فروغ دینے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس کانفرنس کا مقصد نوجوانوں کو مصنوعی ذہانت، ڈیجیٹل معیشت، گرین اکانومی اور قومی ترقی کے دیگر ابھرتے ہوئے شعبوں سے آگاہ کرنا اور انہیں مستقبل کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے تیار کرنا ہے۔