اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 11 جون2026ء) وفاقی
وزیر اطلاعات و نشریات عطا اللہ تارڑ نے گرین جرنلزم کو ماحولیاتی شعور اجاگر کرنے کا موثر ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کو
سوشل میڈیا پر وائرل مواد کی طرح مقبول ہونا چاہئے،
پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ ممالک میں شامل ہے ،کاربن کے اخراج میں
پاکستان کا حصہ محض ایک فیصد ہے، اب وقت آ گیا ہے موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی انصاف پر بھی بات کی جائے
،پاکستان حالیہ برسوں میں تباہ کن سیلابوں کا سامنا کر چکا ہے، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات ہر شعبے کو متاثر کر رہے ہیں، ہمارے مذہب اسلام میں بھی ماحولیات کے تحفظ پر زور اور درخت لگانے کو صدقہ جاریہ قرار دیا گیا ہے، ماحولیاتی تحفظ ہماری اخلاقی یا قومی ذمہ داری ہی نہیں بلکہ مذہبی فریضہ بھی ہے، اس ضمن میں ہمیں ایکو سسٹم بدلنے کی ضرورت ہے، موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے تحفظ کے لئے ہر شخص کو اپنا کردار ادا کرنا ہوگا۔
(جاری ہے)
وہ جمعرات کو یہاں او آئی سی ۔ کامسٹیک اور وفاقی اردو یونیورسٹی برائے آرٹس، سائنس و
ٹیکنالوجی کے زیر اہتمام ایک روزہ گرین جرنلزمبین الاقوامی کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ اس موقع پر کامسٹیک کے کوآرڈینیٹر
ڈاکٹر محمد اقبال چوہدری، وائس چانسلر وفاقی اردو یونیورسٹی
ڈاکٹر ضابطہ خان شنواری، پروفیسر
ڈاکٹر جاوید خورشید،
فلسطین کی نائب وزیر برائے کمیونیکیشن ہدی الواحدی سمیت طلبہ و طالبات اور دیگر اہم شخصیات موجود تھیں۔
وفاقی
وزیر اطلاعات نے کامسٹیک سمیت دیگر منتظمین کو اس شاندار کانفرنس کے انعقاد پر خراج تحسین پیش کرتے ہوئے ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس کانفرنس کے ذریعے نہ صرف موسمیاتی تبدیلی سے متعلق آگاہی کی اہمیت کو اجاگر کیا گیا ہے بلکہ گرین جرنلزم کے فروغ اور اس اہم موضوع پر شعور بیدار کرنے کے لئے عملی اقدامات بھی کئے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ آگاہی کے بغیر موسمیاتی تبدیلی جیسے سنگین چیلنجز سے نمٹنا ممکن نہیں، ہم نہ مطلوبہ معیار حاصل کر سکتے ہیں نہ احتیاطی اقدامات کر سکتے ہیں اور نہ ہی ایسا سازگار ماحول تشکیل دے سکتے ہیں جو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے نمٹنے کے لئے ضروری ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی نہ صرف ہمارے دور کا بڑا خطرہ ہے بلکہ یہ پوری انسانیت کے لئے سنگین چیلنج بن چکا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے 2030 سے 2050 کے درمیان موسمیاتی تبدیلی کے باعث ہر سال 2 لاکھ 50 ہزار اموات کا خدشہ ظاہر کیا ہے جو انتہائی تشویشناک ہے۔ عطا اللہ تارڑ نے کہا کہ
پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جن کا کاربن کے اخراج میں حصہ ایک فیصد سے بھی کم ہے۔ اب وقت آ گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی کے ساتھ ساتھ ماحولیاتی انصاف پر بھی بات کی جائے۔
انہوں نے کہا کہ وہ ممالک جو فوسل فیول کے زیادہ استعمال اور کاربن اخراج میں زیادہ حصہ دار ہیں، ان پر ان ممالک کے مقابلے میں زیادہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے جن کا اس میں حصہ نہایت کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ
پاکستان نے حالیہ برسوں میں تباہ کن سیلابوں کا سامنا کیا، 2022 کے
سیلاب میں خیبر پختونخوا میں
تباہی ہوئی، بونیر سے
سوات تک وسیع پیمانے پر
نقصان پہنچا، اسی طرح
پنجاب اور
سندھ میں بھی شدید
سیلابی صورتحال کے باعث بڑے پیمانے پر
تباہی ہوئی۔
انہوں نے کہا کہ 2010 میں دریائے
سندھ میں آنے والے شدید
سیلاب کو بھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔ ہر چند سال بعد قیمتی جانوں اور روزگار کا
نقصان ہوتا ہے اور عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ ان چیلنجز سے نمٹنے کے لئے آگاہی کے کئی پہلو ہیں۔ انہوں نے
اقوام متحدہ کے فریم ورک برائے موسمیاتی تبدیلی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس فریم ورک کے کیوٹو پروٹوکول میں موجود
آرٹیکل 6 کے تحت رکن ممالک پر لازم قرار دیا گیا ہے کہ وہ نہ صرف آگاہی کو فروغ دیں بلکہ موسمیاتی تبدیلی کو اپنے نصاب کا بھی حصہ بنائیں۔
انہوں نے کہا کہ یہ آگاہی قومی، علاقائی اور نچلی سطح پر فروغ دی جانی چاہئے کیونکہ آگاہی کے لئے ایک ہی طرز عمل تمام حالات پر لاگو نہیں کیا جا سکتا، اس کی مختلف شکلیں اور جہتیں ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تقریبا 1400 سال قبل دین اسلام نے بھی ماحولیاتی تحفظ اور ذمہ داری پر خصوصی زور دیا جب یہ مسئلہ اتنا نمایاں نہیں تھا۔ انہوں نے کہا کہ دین اسلام میں درخت لگانا صدقہ جاریہ ہے۔
شجرکاری اور بھلائی کے کام کو کسی بھی حالت میں موخر نہیں کرنا چاہئے۔ یہ آگاہی کی وہ بلند ترین سطح ہے جس کا تصور کیا جا سکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمان اس عقیدے پر یقین رکھتے ہیں کہ جس نے ایک انسان کی جان بچائی گویا اس نے پوری انسانیت کو بچایا۔ اس تناظر میں 1400 سال قبل دی گئی یہ تمام تعلیمات آج بھی اسی طرح اہم اور متعلقہ ہیں اور ان پیغامات کو
دنیا اور اپنی عوام تک پہنچانا ضروری ہے تاکہ ان موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے ذمہ داری کا احساس پیدا ہو۔
انہوں نے کہا کہ جنگلات کی کٹائی، گلیشیئرز کا پگھلنا، سمندر کی سطح میں اضافہ، شدید
گرمی و سردی اور غیر معمولی موسمی حالات انسانی زندگی پر تباہ کن اثرات مرتب کر رہے ہیں اور مختلف بیماریوں میں اضافہ کا باعث بن رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دریاں کے کناروں پر مقیم افراد سب سے زیادہ خطرات سے دوچار ہیں، اس لئے ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم یہ پیغام عام کریں کہ ہر شہری چاہے وہ نوجوان ہو یا بزرگ، موسمیاتی تبدیلی کے تباہ کن اثرات سے آگاہی اور ان کے تدارک کے لئے اپنا کردار ادا کرے۔
انہوں نے کہا کہ یہ صرف قومی یا اخلاقی ذمہ داری نہیں بلکہ مذہبی ذمہ داری بھی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ بدقسمتی سے
سوشل میڈیا پر متنازعہ مواد زیادہ توجہ حاصل کرتا ہے، جتنا زیادہ متنازعہ مواد ہوتا ہے اتنی ہی زیادہ اس کی رسائی اور اثر بڑھتا ہے۔ ٹک ٹاک اور انسٹا گرام پر بڑی گاڑیوں اور نمائشی طرز زندگی کو زیادہ فروغ ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی دراصل اس ملک میں ایک تہذیبی اور ثقافتی تبدیلی کا تقاضا کرتی ہے، ہمیں پورے ماحول اور رویوں کو تبدیل کرنا ہوگا اور اس بات کو یقینی بنانا ہوگا کہ موسمیاتی تبدیلی
سوشل میڈیا پر ٹرینڈنگ اور مرکزی موضوع بن جائے۔
انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی ایک حقیقی خطرہ ہے، اس کو ایک سنجیدہ مسئلے کے طور پر پیش کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ
پاکستان براڈ کاسٹرز ایسوسی ایشن اور دیگر مین اسٹریم الیکٹرانک میڈیا ادارے اس حوالے سے اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔ انہوں نے ٹی وی چینلز پر اس اہم موضوع کے لئے مخصوص اوقات مقرر کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اس اقدام سے عوامی آگاہی میں اضافہ ہوگا۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ
سوشل میڈیا پلیٹ فارمز جیسے ٹک ٹاک، ایکس،
فیس بک، انسٹاگرام اور لنکڈ اِن بھی اس حوالے سے مخصوص مواد اور مہمات کو فروغ دے سکتے ہیں تاکہ موسمیاتی تبدیلی سے متعلق پیغام زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچ سکے۔ انہوں نے کہا کہ گرین جرنلزم کے عنوان سے ایک مثر مہم کے ذریعے مثبت نتائج حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ انہوں نے ہائر ایجوکیشن کمیشن اور جامعات کے کردار پر بھی زور دیا اور کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کو نہ صرف یونیورسٹی سطح بلکہ ابتدائی
تعلیم کے نصاب میں بھی شامل کیا جانا چاہیے۔
انہوں نے تجویز دی کہ ایک فوکل پرسن نامزد کر کے مشترکہ ورکنگ گروپ تشکیل دیا جائے جو مختلف اسٹیک ہولڈرز کی نشاندہی اور ان کے کردار کا تعین کرے۔ اس گروپ کے ذریعے عملی اقدامات، ذمہ داریوں اور ٹائم لائنز کو واضح کیا جا سکتا ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ میڈیا شخصیات، رائے عامہ سازوں اور انفلوئنسرز کو بھی اس مہم میں شامل کیا جائے کیونکہ عوام ان کی بات سنتے ہیں اور وہ معاشرتی رویوں کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ انہوں نے یقین دہانی کرائی کہ وزارت اطلاعات و نشریات اس نیک مقصد کے لیے ہر ممکن تعاون فراہم کرے گی اور گرین جرنلزم کے فروغ کے لیے پیغام رسانی کو موثر انداز میں آگے بڑھایا جائے گا۔