اہم وزارتوں اور آئینی بلڈنگ کے باہر سرکاری بجلی پر پرائیوٹ گاڑیاں چارج کرنے کا اسکینڈل بے نقاب

محض دو گھنٹوں کے دوران وفاقی حکومت کی اہم ترین وزارتوں کے دفاتر کے باہر اور ایک انتہائی معتبر آئینی بلڈنگ کے احاطے میں چار بڑی اور مقتدر شخصیات کی پرائیوٹ گاڑیاں کھڑی دیکھیں؛ صحافی زاہد گشکوری کی پوسٹ

Sajid Ali ساجد علی جمعرات 11 جون 2026 13:42

اہم وزارتوں اور آئینی بلڈنگ کے باہر سرکاری بجلی پر پرائیوٹ گاڑیاں چارج ..
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 11 جون2026ء) وفاقی دارالحکومت کے مقتدر حلقوں اور سرکاری دفاتر میں جاری شاہ خرچیوں اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والا ایک نیا اسکینڈل بے نقاب ہوگیا۔ تفصیلات کے مطباق ملک میں ایک طرف جہاں عام شہری بجلی کے بھاری بلوں اور مہنگائی کی وجہ سے خودکشیاں کرنے پر مجبور ہے، وہیں دوسری طرف ملک کے سب سے بڑے اقتدار کے مراکز میں سرکاری خرچے پر عیاشیوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہو چکا ہے۔

صحافی زاہد گشکوری نے انکشاف کیا ہے کہ اسلام آباد کی اہم وزارتوں اور ایک بڑی آئینی عمارت کے چارجنگ اسٹیشنز پر افسران اور ان کے دوستوں کی نجی الیکٹرک گاڑیاں سرکاری بجلی پر مفت چارج کی جا رہی ہیں، محض دو گھنٹوں کے دوران وفاقی حکومت کی اہم ترین وزارتوں کے دفاتر کے باہر اور ایک انتہائی معتبر آئینی بلڈنگ کے احاطے میں چار بڑی اور مقتدر شخصیات کی پرائیوٹ گاڑیاں کھڑی دیکھیں، یہ تمام قیمتی پرائیوٹ گاڑیاں وہاں لگے سرکاری چارجنگ اسٹیشنز سے منسلک تھیں اور سرکاری بجلی کے ذریعے ان کی بیٹریاں مفت چارج کی جا رہی تھیں۔

(جاری ہے)

زاہد گشکوری کا کہنا ہے کہ جب انہوں نے اس حوالے سے وہاں موجود عملے اور متعلقہ ذرائع سے پوچھ گچھ کی تو انتہائی افسوسناک حقائق سامنے آئے، اور پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ کوئی ایک آدھ دن کا واقعہ نہیں ہے، بلکہ اب کئی سرکاری افسران اور خود ان کے من پسند دوست اور رشتہ دار اپنی نجی الیکٹرک گاڑیاں لے کر یہاں آتے ہیں، یہاں باقاعدہ ایک تانتا بندھا رہتا ہے، جہاں یہ بااثر افراد آ کر اپنی پرائیوٹ گاڑیوں کو سرکاری خرچے پر فل چارج کرتے اور نکل جاتے ہیں، جبکہ ان کا بل غریب عوام کے ٹیکسوں سے ادا کیا جاتا ہے۔