چکوال سانحے پر پنجاب پولیس نے 9 سالہ آسٹریلوی بچی کے قتل کیس کی تفتیش سے ہاتھ اٹھا لیا

ہم نے قانون کے مطابق ایف آئی آر درج کردی، تفتیش ہم نہیں کریں گے بلکہ سی سی ڈی خود کرے گی، ڈی پی او کا مؤقف؛ آر پی او خاموش، شہریوں کی محسن نقوی سے نوٹس کی اپیل

Sajid Ali ساجد علی اتوار 14 جون 2026 13:58

چکوال سانحے پر پنجاب پولیس نے 9 سالہ آسٹریلوی بچی کے قتل کیس کی تفتیش ..
چکوال (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 جون2026ء) صوبہ پنجاب کے ضلع چکوال میں حج سے واپس لوٹنے والے آسٹریلوی شہری پاکستانی خاندان پر فائرنگ کے کیس میں پنجاب پولیس نے 9 سالہ بچی کے جاں بحق ہونے اور اس کے خاندان کو لہولہان کرنے والے معاملے کی تحقیقات سے ہاتھ اٹھا لیا۔ اے آر وائی نیوز کے مطابق چکوال میں سی سی ڈی کی مبینہ غفلت اور اندھا دھند فائرنگ سے پاکستانی نژاد آسٹریلوی شہری عدیل احمد کی بیٹی ہانیہ احمد کے قتل اور خاندان کے دیگر ارکان کے زخمی ہونے کے کیس میں مقامی پولیس نے تفتیش کرنے سے معذرت کرلی ہے، ڈی پی او چکوال کا مؤقف ہے کہ چونکہ یہ کارروائی اور معاملہ سی سی ڈی کا ہے، اس لیے وہی اس کی اندرونی تحقیقات کرے گی۔

اس حوالے سے ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر (ڈی پی او) چکوال کا مزید کہنا ہے کہ پنجاب میں اس نوعیت کے تمام مخصوص اور سنگین معاملات کو سی سی ڈی خود ہی مانیٹر کرتی ہے اور ان کا اپنا تفتیشی نظام ہے، ہم نے قانون کے مطابق ایف آئی آر درج کر دی ہے، جو اہلکار گرفتار ہوا وہ بھی سی سی ڈی نے خود ہی پکڑا ہے، اس لیے اب اس واقعے کی آگے کی تمام تفتیش اور تحقیقات سی سی ڈی خود ہی کرے گی، پنجاب پولیس کا اس سے تعلق نہیں۔

(جاری ہے)

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس اہم ترین واقعے پر جب ریجنل پولیس آفیسر (آر پی او) بابر سرفراز سے رابطہ کرنے کی کوشش کی گئی، تو انہوں نے مؤقف دینے سے صاف انکار کر دیا اور خاموشی اختیار کرلی، یہی حال آئی جی آفس اور چکوال پولیس کا ہے، جہاں سے تاحال کوئی باقاعدہ وضاحتی پریس ریلیز جاری نہیں کی گئی۔ اس معاملے پر عوامی اور شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ جب ایک محکمہ خود گناہ گار ہے، تو وہ اپنی شفاف تفتیش کیسے کر سکتا ہے؟ یہ سیدھا سیدھا معاملے کو دبانے اور مٹی پاؤ پالیسی کے تحت اپنوں کو بچانے کی کوشش ہے، متاثرہ خاندان کو انصاف دلانے اور آسٹریلیا کے ساتھ سفارتی تعلقات کو بچانے کے لیے شہریوں نے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی سے اپیل کی ہے کہ وہ اس اندوہ ناک واقعے کا فوری نوٹس لیں اور اس کی شفاف انکوائری کروائیں۔