- جی سیون اجلاس میں ایران جنگ مرکزی موضوع
جی سیون اجلاس میں ایران جنگ مرکزی موضوع
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پیر کے روز سے فرانس میں شروع ہونے والے جی سیون سربراہی اجلاس کے دوران ایران جنگ سے متعلق مجوزہ فریم ورک معاہدے کے بعد کے اقدامات پر تبادلہ خیال کریں گے، جن میں آبنائے ہرمز سے بارودی سرنگوں کی صفائی میں ممکنہ تعاون بھی شامل ہے۔
امریکی حکام نے ہفتے کے روز بتایا کہ جی سیون کے رکن ممالک نے اشارہ دیا ہے کہ اگر ایران کے ساتھ فریم ورک معاہدہ طے پا جاتا ہے تو وہ اس کے بعد کے عملی اقدامات میں کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہیں۔
ایک سینئیر امریکی عہدیدار کے مطابق گفتگو کا ایک اہم موضوع آبنائے ہرمز میں بارودی سرنگوں کی صفائی ہو گا۔
(جاری ہے)
فرانس
اور برطانیہ کی قیادت میں آبنائے ہرمز میں ایک غیر جانبدار بحری مشن تشکیل دیا جا رہا ہے۔اس مشن کی حمایت اب تک چالیس سے زائد ممالک کر چکے ہیں، جن میں جرمنی بھی شامل ہے۔
بارودی سرنگوں کی صفائی اس مجوزہ مشن کا ایک اہم جزو ہوگی۔آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے، جہاں سے عالمی تیل کی بڑی مقدار گزرتی ہے۔ حالیہ جنگ کے دوران اس راستے میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں نے عالمی توانائی کی منڈیوں کو متاثر کیا ہے۔
امریکی
حکام کے مطابق صدر ٹرمپ جی سیون اجلاس کے موقع پر مصر، قطر اور متحدہ عرب امارات کے وفود سے دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔ ان ملاقاتوں میں ایران، غزہ اور لبنان کی صورتحال پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔حکام کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم بینجمن نیتن یاہو ان مذاکرات کا حصہ نہیں ہوں گے۔ تاہم مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال، ایران کے ساتھ امن معاہدہ، غزہ کی جنگ اور لبنان میں جاری کشیدگی ان ملاقاتوں کے مرکزی موضوعات ہوں گے۔
ٹرمپ
پیر کی دوپہر فرانسیسی شہر ایویاں پہنچیں گے، جہاں جھیل جنیوا کے کنارے واقع اس تفریحی مقام پر جی سیون اجلاس پیر سے بدھ تک جاری رہے گا۔جی سیون میں امریکہ، جرمنی، فرانس، برطانیہ، اٹلی، کینیڈا اور جاپان کے علاوہ یورپی یونین بھی شامل ہے۔ توقع ہے کہ اجلاس میں ایران کے ساتھ ممکنہ امن معاہدہ، گلوبل انرجی سکیورٹی، مشرق وسطیٰ کی صورتحال اور یوکرین جنگ سرفہرست موضوعات ہوں گے۔