Live Updates

بجٹ میں مجھے غریبوں کیلئے کچھ نظر نہیں آیا، نجم سیٹھی کی تنقید

حکومت اراکینِ اسمبلی کو خوش رکھنے کیلئے ان کی جیبوں میں 100 ارب روپے کے فنڈز ڈال دیتی ہے، خریدو فروخت کا یہ ایک سسٹم بنایا ہوا ہے تاکہ ان سے جو چاہیں کروالیں؛ تجزیہ کار کی گفتگو

Sajid Ali ساجد علی اتوار 14 جون 2026 13:38

بجٹ میں مجھے غریبوں کیلئے کچھ نظر نہیں آیا، نجم سیٹھی کی تنقید
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 14 جون2026ء) معروف تجزیہ کار نجم سیٹھی نے وفاقی بجٹ 2026/2027ء پر کڑی تنقید کرتے ہوئے اسے غریب دشمن اور اراکینِ پارلیمنٹ کی خوشنودی کا بجٹ قرار دے دیا۔ دنیا نیوز کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے نجم سیٹھی نے پٹرولیم لیوی، حکومتی اخراجات اور مستقبل میں آنے والے منی بجٹ پر کھل کر اظہارِ خیال کیا، انہوں نے کہا کہ اس بجٹ میں مجھے غریبوں کیلئے سوائے ایک دو کاموں کے کچھ نظر نہیں آیا، حکومت نے صرف بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کے فنڈز میں کچھ اضافہ کیا ہے اور مزدور کی کم از کم اجرت بڑھائی ہے، اس کے علاوہ پورے بجٹ میں غریب کے لیے کچھ نہیں ہے، حکومت نے بجٹ میں عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتیں گرنے کا جو مفروضہ قائم کیا ہے، اگر وہ پورا نہ ہوا تو اگلے تین ماہ میں حکومت کو ایک بار پھر نیا منی بجٹ لانا پڑ جائے گا۔

(جاری ہے)

نجم سیٹھی کہتے ہیں کہ حکومت نے حال ہی میں پٹرول 4 روپے سستا کرکے کریڈٹ لینے کی کوشش کی ہے، لیکن اصل چیز پٹرولیم لیوی ہے جس کا بجٹ میں بہت بڑا اور بھاری ٹارگٹ رکھا گیا ہے، یہ لیوی سراسر عوام پر بوجھ ہے، اگر حکومت واقعی ریلیف دینا چاہتی ہے تو اس لیوی کو ختم یا کم کرے، حکومت نے بجٹ بناتے وقت یہ اندازہ لگایا ہے کہ عالمی سطح پر خام تیل کی قیمتیں گر کر 60 یا 65 ڈالر فی بیرل پر آ جائیں گی، چونکہ عالمی مارکیٹ میں تیل کی صورتحال غیر مستحکم ہے، اگر اگلے تین ماہ تک قیمتیں نہ گریں تو حکومت کو مجبوراً نیا منی بجٹ لانا پڑے گا۔

انہوں نے حکومتی کفایت شعاری کے دعوؤں پر سخت ترین الفاظ میں تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ایم این ایز کا دو ماہ کی تنخواہ نہ لینے کا اعلان کرنا کوئی کفایت شعاری نہیں، یہ کہہ کر انہوں نے کوئی بڑا تیر نہیں مارا، حکومت ان اراکینِ اسمبلی کو خوش رکھنے کے لیے ان کی جیبوں میں 100 ارب روپے کے فنڈز ڈال دیتی ہے، ایک طرف سے پنجاب حکومت فنڈز دیتی ہے تو دوسری طرف سے وفاقی حکومت پیسے لٹاتی ہے، یہ آپ نے خریدو فروخت کا ایک سسٹم بنایا ہوا ہے تاکہ ان سے جو چاہیں کروالیں۔

تجزیہ کار کا کہنا ہے کہ لوگ الیکشن جیتنے کے لیے کروڑوں روپے خرچ کرکے پارلیمنٹ میں آتے ہیں، وہ یہاں اس لیے نہیں آتے کہ کوئی اچھی قانون سازی کریں گے یا ملک و قوم کی خدمت کریں گے، بلکہ وہ یہاں صرف اور صرف پیسے بنانے کے لیے آتے ہیں، یہ ایک باقاعدہ کاروبار بن چکا ہے، حکومت صرف عوام کی جیبوں پر نظر رکھنے کے بجائے اپنے گریبان میں بھی جھانکے، حکومت اپنے شاہانہ اخراجات کیوں کم نہیں کرتی؟ ان کی ساری توجہ صرف اس بات پر ہے کہ پیسے کہاں سے جمع کیے جائیں، اگر حکومت خود اپنے اخراجات کم کرے اور کچھ قربانی دے، تو عوام بھی خوشی سے ٹیکس دے گی۔
Live بجٹ 27-2026ء سے متعلق تازہ ترین معلومات