وفاقی اردو یونیورسٹی میں اساتذہ کا امتحانات کے بائیکاٹ کا آٹھواں روز، انتظامیہ کے خلاف احتجاج شدت اختیار کرگیا

تنخواہوں، ہائوس سیلنگ، پنشن اور بقایاجات کی فوری ادائیگی ،وائس چانسلر کے احتساب اور سینیٹ اجلاس بلانے کا مطالبہ

پیر 15 جون 2026 15:53

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 15 جون2026ء) وفاقی اردو یونیورسٹی میں اساتذہ کی جانب سے امتحانات کے بائیکاٹ کا سلسلہ آٹھویں روز بھی جاری رہاجبکہ اساتذہ نے یونیورسٹی کے انتظامی بلاک کے سامنے احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے مطالبات کے حق میں شدید نعرے بازی کی۔احتجاج میں شریک اساتذہ نے مطالبہ کیا کہ تنخواہوں، ہائوس سیلنگ، پنشن اور دیگر بقایاجات کی فوری ادائیگی کو یقینی بنایا جائے جبکہ یونیورسٹی میں میڈیکل سہولیات بھی فوری طور پر بحال کی جائیں۔

اساتذہ نے احتجاج کے دوران وائس چانسلر کے احتساب کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ یونیورسٹی کو سولرائزیشن کے لیے ملنے والی خطیر گرانٹ ضائع کردی گئی جبکہ یونیورسٹی سینیٹ کی ہدایات کے برخلاف میڈیکل سہولیات ختم کرکے قرشی انڈسٹریز کے دواخانے قائم کیے گئے۔

(جاری ہے)

اساتذہ نے ڈپٹی چیئرمین سینیٹ کے تقرر کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر یونیورسٹی سینیٹ کا اجلاس طلب کیا جائے تاکہ ادارے کے انتظامی اور مالی معاملات کا جائزہ لیا جاسکے۔

احتجاجی جلسے سے نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن کے جنرل سیکرٹری ناصر منصور نے خطاب کرتے ہوئے اساتذہ کے مطالبات کی مکمل حمایت کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ افسوسناک صورتحال ہے کہ اساتذہ کو ان کی بنیادی تنخواہیں بھی بروقت ادا نہیں کی جارہیں۔ناصر منصور نے کہاکہ اساتذہ کی جاری تحریک مسائل کے حل کے لیے ناگزیر ہوچکی ہے اور نیشنل ٹریڈ یونین فیڈریشن اساتذہ کو ہر ممکن قانونی معاونت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔احتجاجی اساتذہ نے خبردار کیا کہ مطالبات تسلیم نہ ہونے کی صورت میں احتجاج اور امتحانی بائیکاٹ کا دائرہ مزید وسیع کیا جاسکتا ہے۔

متعلقہ عنوان :