ہیوی گاڑیوں سے ہونے والی اموات نصف رہ گئیں، ڈی آئی جی ٹریفک کراچی

کراچی میں 1300 کیمروں سے ٹریفک مانیٹرنگ، مزید 2250 کیمرے نصب ہوں گے ، پیر محمد شاہ ترقی یافتہ شہروں کی طرز پر کراچی میں جدید ٹریفک نظام ، عوامی سہولت کیلئے کورنگی سینٹر کی اپ گریڈیشن کی جائے ، محمد اکرام راجپوت

منگل 16 جون 2026 20:20

�راچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 16 جون2026ء) ڈی آئی جی ٹریفک پیر محمد شاہ نے کہا کہ جدید ٹریفک نگرانی کے نتیجے میں صرف چھ ماہ کے دوران ٹریفک حادثات میں ہونے والی اموات میں تقریباً 30 فیصد کمی آئی ہے۔ گزشتہ سال اسی عرصے کے دوران 447 مہلک حادثات رپورٹ ہوئے تھے جبکہ اس سال ان میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی اور 308 حادثات رپورٹ ہوئے۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے کورنگی ایسوسی ایشن آف ٹریڈ اینڈ انڈسٹری (کاٹی) میں صنعتکاروں اور کاروباری برادری سے خطاب کرتے ہوئیکیا۔ تقریب میں کاٹی کے صدر محمد اکرام راجپوت، نائب صدر محمد طلحہ علی، سابق صدر جنید نقی، احتشام الدین، شیخ فضل جلیل، سید فرخ مظہر ، طارق ملک، اسرار احمد، ایس ایس پی ٹریفک کورنگی اسرار احمد چنگیزی، ایس ایس پی ٹریفک ایسٹ امجد حیات، ایس ایس پی ٹریفک ملیر محمد طاہر خان، ڈی ایس پی کورنگی قلندر بخش ناریجو سمیت ممبران اور صنعتکاروں کی بڑی تعداد موجود تھی۔

(جاری ہے)

ڈی آئی جی ٹریفک کراچی پیر محمد شاہ نے کہا کہ پولیس کے اعداد و شمار کے مطابق شدید زخمی ہونے والے افراد کے واقعات گزشتہ سال 806 ہوے جبکہ رواں سال 569 واقعات رونما ہوئیاور300 سے زائد کمی ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ بڑی گاڑیوں سے ہونے والی اموات گزشتہ سال 155 تھیں جو نصف کمی سے 75 رہ گئی ہیں۔ روڈ ڈسپلن اور ٹریفک کسی بھی قوم کے اجتماعی رویوں اور تہذیبی شعور کی عکاسی کرتے ہیں۔

کراچی میں ٹریفک نظام کی بہتری اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے لیے گزشتہ چند ماہ کے دوران بھرپور اقدامات کیے گئے ہیں، جن کے مثبت نتائج سامنے آنا شروع ہو گئے ہیں۔پیر محمد شاہ نے کہا کہ ہر ماہ کئی قیمتی جانیں انہی اصلاحات کے باعث محفوظ بنائی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہریوں کے رویوں میں بھی مثبت تبدیلی آئی ہے، پہلے سیٹ بیلٹ کا استعمال محدود تھا مگر اب آن لائن ڈرائیور بھی مسافر کو سیٹ بیلٹ لگائے بغیر سفر شروع نہیں کرتے۔

انہوں نے کہا کہ ٹریفک نظم و ضبط کے چیلنجز سے نمٹنے کے لیے ٹریفک فلو یونٹ اور ٹریفک ڈرون یونٹ قائم کیے گئے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اس وقت 1300 کیمروں کے ذریعے نگرانی کی جا رہی ہے جبکہ دوسرے مرحلے میں مزید 2250 کیمرے نصب کیے جائیں گے۔ڈی آئی جی ٹریفک نے واضح کیا کہ کم عمر بچوں کی ڈرائیونگ پر کوئی رعایت نہیں دی جائے گی اور موٹر سائیکل کا کم از کم چالان ڈھائی ہزار روپے ہے، یہ جرمانے حکومتی قانون سازی کے تحت نافذ کیے گئے ہیں۔

انہوں نے مزید بتایا کہ تجاوزات اور غلط پارکنگ اکثر ٹریفک جام کی بنیادی وجہ بنتی ہیں، اسی لیے 34 ایسے مقامات کی نشاندہی کی گئی ہے جہاں شہریوں کو زیادہ مشکلات پیش آتی تھیں اور وہاں خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ سڑکوں پر ٹریفک روانی برقرار رکھنا ہم سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے اور ہمیں جدید دور کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنا ہوگا۔

قبل ازیں کاٹی کے صدر محمد اکرام راجپوت نے اپنے خطاب میں کہا کہ کراچی کی صنعتی سرگرمیوں اور معاشی ترقی کا براہ راست تعلق بہتر ٹریفک نظام سے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک پولیس کی جانب سے جدید ٹیکنالوجی کے استعمال، ای چالان سسٹم اور ٹریفک نظم و ضبط کے لیے کیے گئے اقدامات قابل تحسین ہیں۔ صنعتکار برادری شہری آگاہی اور قانون کی پاسداری کے فروغ میں اداروں کے ساتھ تعاون جاری رکھے گی۔

انہوں نے کہا کہ کراچی میں ای چالان کا نفاذ دنیا کے ترقی یافتہ شہروں جیسے دبئی اور لندن کے معیار کے مطابق ہیں ۔ صدر کاٹی نے کہا کہ کورنگی میں قائم سہولت سینٹر کو بہتر بنایا جائے اس کے علاوہ عوام کی آگاہی کیلئیمختلف سطح پر پروگرامز کا انعقاد کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ ٹریفک کی روانی کو بہتر بنانے کیلئے انتظامات ضروری ہیں۔ اکرام راجپوت نیتجویز دی کہ کورنگی انڈسٹریل ایریا اور ملحقہ شاہراہوں پر ٹریفک مینجمنٹ مؤثر بنائی جائے،ہیوی ٹریفک کی نقل و حرکت کے لیے صنعتکاروں سے مشاورت پر مبنی پالیسی تشکیل دی جائے، صنعتی علاقوں میں ٹریفک پولیس نفری اور نگرانی میں اضافہ کیا جائے، تجاوزات اور غیر قانونی پارکنگ کے خلاف مستقل کارروائی کی جائے، روڈ مارکنگ، ٹریفک سگنلز اور سائن ایج کو جدید معیار کے مطابق بہتر بنایا جائے۔

ای چالان سسٹم میں ویریفکیشن اور شکایات کے فوری ازالے کا نظام متعارف کروایا جائے، لین ڈسپلن کے مؤثر نفاذ کے لیے تمام اہم شاہراہوں پر واضح لین مارکنگ کی جائے اور ٹریفک پولیس، بلدیاتی اداروں اور صنعتکار برادری کے اشتراک سے مشترکہ ٹریفک امپروومنٹ پلان تشکیل دیا جائے۔ سابق صدر جنید نقی نے کہا کہ شہری نظم و ضبط اور جدید ٹریفک انتظام آج کے ترقی یافتہ معاشروں کی بنیادی ضرورت ہے۔

گاڑیوں کی فٹنس ، ایکسل لوڈ اور رات کے اوقات میں ہیوی ٹریفک کو روانی کی اجازت پر قانون کے مطابق عمل درآمد کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ جدید نگرانی، ڈیجیٹل نظام اور قانون پر مؤثر عملدرآمد کے ذریعے کراچی کو دوبارہ ایک منظم اور محفوظ ٹریفک نظام فراہم کیا جا سکے گا۔نائب صدر محمد طلحہ علی نے کہا کہ وی آئی پی موومنٹ اور اہم شاہراہوں پر احتجاج اور دھرنوں کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہوتی ہے اس پر جامع منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ ٹریفک کے بہتر انتظام سے نہ صرف شہریوں کی روزمرہ زندگی آسان ہوگی بلکہ صنعتی علاقوں میں کاروباری سرگرمیوں اور رسد کے نظام پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ تقریب سے سابق صدور و چئرمین احتشام الدین ،شیخ فضل جلیل ، طارق ملک اور ڈاکٹر زاہد انصاری نے بھی خطاب کیا۔