آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں وفاقی وزارتوں میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیاں بے نقاب

ہفتہ 27 جون 2026 18:53

آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں وفاقی وزارتوں میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیاں ..
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 27 جون2026ء) سابق چیئرمین سینیٹ میاں رضا ربانی نے کہا ہے کہ آڈیٹر جنرل آف پاکستان کی رپورٹ نے وفاقی وزارتوں میں اربوں روپے کی مالی بے ضابطگیوں کو بے نقاب کر دیا ہے۔ایک انٹرویومیں انہوں نے مطالبہ کیا کہ صوبوں سے غیر آئینی طور پر حاصل کیے جانے والے فنڈز کی نگرانی مشترکہ مفادات کونسل کے ذریعے کی جائے۔

(جاری ہے)

رضا ربانی نے کہا کہ آئین پاکستان 1973 کو نظر انداز کرتے ہوئے کابینہ میں موجود نارووال گینگ نے 3 برس کے لیے قابل تقسیم پول میں صوبوں کے حصے کو منجمد کر دیا اور آئین کے آرٹیکل 164 کے تحت صوبوں سے گرانٹس بھی حاصل کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آڈیٹر جنرل کی رپورٹ میں وفاقی حکومت کے مالیاتی انتظام کی خامیاں واضح طور پر سامنے آئی ہیں، جن میں بڑے پیمانے پر مالی بے ضابطگیاں، کمزور نگرانی، رقوم کی عدم وصولی، غیر مجاز اخراجات اور حکمرانی کی ناکامیاں شامل ہیں۔

سابق چیئرمین سینیٹ نے کہا کہ صوبوں سے غیر آئینی طریقے سے حاصل کیے جانے والے فنڈز کا انجام بھی اسی طرح ہوگا، اس لیے ضروری ہے کہ ان فنڈز کی نگرانی مشترکہ مفادات کونسل کے ذریعے کی جائے تاکہ شفافیت اور آئینی تقاضوں کو یقینی بنایا جا سکے۔