Live Updates

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کا اجلاس

پیر 29 جون 2026 21:24

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 29 جون2026ء) قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی نے مالی سال 2026-27 کے پبلک سیکٹر ڈویلپمنٹ پروگرام (پی ایس ڈی پی) اور پاکستان الیکٹرک وہیکل پالیسی کا جائزہ لیتے ہوئے ملک میں چارجنگ انفراسٹرکچر، بیٹری ری سائیکلنگ اور ماحول دوست ٹرانسپورٹ کے فروغ کے لئے جامع حکمت عملی پر زور دیا ہے۔

قائمہ کمیٹی کا اجلاس پیر کوپارلیمنٹ ہاؤس میں قائم مقام چیئرپرسن ڈاکٹر شازیہ صوبیہ اسلم سومرو رکن قومی اسمبلی کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی نے کمیٹی کو یقین دلایا کہ وہ آئندہ بھی کمیٹی کو تمام اہم امور پر باقاعدگی سے بریفنگ دیتے رہیں گے۔اجلاس میں وزارت کے مالی سال 2026-27 کے پی ایس ڈی پی پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ محدود مالی وسائل کے باوجود قومی اہمیت کے حامل منصوبوں کو ترجیح دی گئی ہے جن میں بوٹینیکل گارڈن اور فضائی آلودگی سے متعلق نئے منصوبے شامل ہیں جبکہ ان میں نجی شعبے کی شمولیت پر بھی غور کیا جا رہا ہے۔

(جاری ہے)

کمیٹی کو بتایا گیا کہ پاکستان بائیو سیفٹی کلیئرنگ ہاؤس کا قیام عمل میں لایا جا چکا ہےجس کا مقصد کارٹیجینا پروٹوکول کے تحت پاکستان کی ذمہ داریوں کی تکمیل اورماحولیاتی تحفظ ایجنسی کی استعداد کار میں اضافہ ہے۔ اسی طرح پانی کے معیار کی جانچ کے لئے لیبارٹریاں اور ٹیسٹنگ سہولیات، بشمول واش پروگرام فعال کر دی گئی ہیں۔وزارت نے آگاہ کیا کہ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ سویابین اور کینولا سے متعلق حالیہ ریگولیٹری فیصلوں سے پولٹری سیکٹر کو سہارا ملا ہے جبکہ اس حوالے سے تمام فیصلے سائنسی شواہد، غذائی تحفظ اور بین الاقوامی معیار کو مدنظر رکھ کر کئے جائیں گے۔

اجلاس میں اسلام آباد میں پانی کی آلودگی اور ماحولیاتی مسائل پر بھی تفصیلی غور کیا گیا۔ حکام نے بتایا کہ قدرتی ندی نالوں میں بغیر ٹریٹمنٹ گندے پانی کے اخراج کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں جبکہ کورنگ نالہ پر سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ تعمیر کیا جا رہا ہے تاکہ راول ڈیم میں شامل ہونے والی آلودگی کو کم کیا جا سکے۔کمیٹی کو موسمیاتی مالیات، گرین ٹیکسانومی، بین الاقوامی شراکت داری اور قومی فضائی معیار سے متعلق پیشرفت پر بھی بریفنگ دی گئی۔

بتایا گیا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک کی تکنیکی معاونت سے نئے نیشنل ایمبیئنٹ ایئر کوالٹی اسٹینڈرڈز رواں سال حتمی شکل دیئے جانے کی توقع ہے۔وزارت صنعت و پیداوار اور وزارت موسمیاتی تبدیلی نے پاکستان کی الیکٹرک وہیکل پالیسی پر مشترکہ بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ انجینئرنگ ڈویلپمنٹ بورڈ نےترقیاتی شراکت داروں، تھنک ٹینکس اور جامعات کے تعاون سےیہ پالیسی تیار کی ہے جس میں الیکٹرک موٹر سائیکلوں اور رکشوں کے فروغ، چارجنگ نیٹ ورک کی توسیع، مقامی مینوفیکچرنگ اور درآمدی پرزہ جات پر انحصار کم کرنے کے اقدامات شامل ہیں۔

اراکین کمیٹی نے چارجنگ سٹیشنز کی دستیابی، الیکٹرک گاڑیوں کی قیمت، بیٹری ری سائیکلنگ،مینوفیکچررز کے لئے مراعات، مقامی سطح پر سپیئر پارٹس کی تیاری اور پالیسی کی طویل المدتی پائیداری سے متعلق سوالات اٹھائے۔حکام نے بتایا کہ ملک بھر میں 100 سے زائد لائسنس یافتہ ای وی چارجنگ سٹیشنز کی منظوری دی جا چکی ہےجبکہ اسلام آباد میں نئے قائم ہونے والے پٹرول پمپس پر ای وی چارجنگ سہولت لازمی ہوگی۔

مزید بتایا گیا کہ بیٹری پالیسی اور ری سائیکلنگ فریم ورک تیار کر لیا گیا ہےجس کی منظوری کا عمل جاری ہے۔کمیٹی نے وزارت کو ہدایت کی کہ جینیاتی طور پر تبدیل شدہ جانداروں (جی ایم اوز) اور بائیو سیفٹی سے متعلق قومی پالیسی پر جامع بریفنگ دی جائے۔ ساتھ ہی گاڑیوں کے اخراج کی جانچ کرنے والی تمام مصدقہ لیبارٹریوں کی تفصیلات اور مارگلہ ہلز نیشنل پارک کی قانونی حدود سے متعلق تفصیلی رپورٹ بھی کمیٹی کے سامنے پیش کی جائے۔

اجلاس میں اراکین قومی اسمبلی میر خان محمد جمالی، مسرت آصف خواجہ (ویڈیو لنک کے ذریعے)، شائستہ خان، سیدہ شہلا رضا، مسرت رفیق مہیسر، رانا انصار، تمکین اختر نیازی اور شاہدہ رحمانی نے شرکت کی۔اس موقع پر متعلقہ وزارتوں اور محکموں اور کیپٹل ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے سینئر افسران بھی موجود تھے۔
Live پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافہ سے متعلق تازہ ترین معلومات