رضا ڈار کیس پر شیر افضل مروت نے انتہائی اہم نکات اٹھا دیئے

میری واحد خواہش یہ ہے کہ تفتیش قانون، شواہد اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق انجام پائے تاکہ جو بھی حقیقت ہے، وہ پوری دیانت داری کے ساتھ عدالت کے سامنے آسکے؛ رکن قومی اسمبلی کا بیان

Sajid Ali ساجد علی اتوار 5 جولائی 2026 12:14

رضا ڈار کیس پر شیر افضل مروت نے انتہائی اہم نکات اٹھا دیئے
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جولائی 2026ء) لاہور ڈیفنس میں غیر ملکی خواتین کے اغواء اور مبینہ زیادتی کے کیس پر رکن قومی اسمبلی بیرسٹر شیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ اس حساس ترین مقدمے میں محض دفعہ 164 کے بیانات اور ایف آئی آر پر انحصار کرنا ناانصافی ہوگی، جب تک کہ تفتیش میں جدید سائنسی اور ڈیجیٹل شواہد شامل نہیں کیے جاتے۔ اس حوالے سے اپنے ایک بیان میں شیر افضل مروت کا کہنا ہے کہ لاہور کے مبینہ گینگ ریپ کیس میں اس وقت بظاہر مقدمے کی بنیاد ایف آئی آر اور ضابطۂ فوجداری کی دفعہ 164 کے تحت متاثرہ فریق کے بیان پر ہے، تاہم ایسے مقدمات میں انصاف کا حقیقی دار و مدار صرف ان بیانات پر نہیں بلکہ سائنسی اور فرانزک شواہد پر بھی ہوتا ہے، ریپ کے مقدمات میں سب سے اہم شہادت ڈی این اے ٹیسٹ، سواب ٹیسٹ اور متاثرہ فریق و ملزمان دونوں کے میڈیکو لیگل معائنے ہوتے ہیں۔

(جاری ہے)

ان کے علاوہ سنگاپور میں دونوں فریقوں کی ملاقات سے متعلق شواہد، واٹس ایپ پیغامات، دونوں فریقوں کی لوکیشن ہسٹری، سی سی ٹی وی فوٹیج، موبائل فونز کی فرانزک جانچ، سیف سٹی کیمروں کی ریکارڈنگ اور دیگر ڈیجیٹل شواہد بھی غیر معمولی اہمیت رکھتے ہیں، تاحال تفتیشی اداروں کی جانب سے ان اہم سائنسی اور ڈیجیٹل شواہد کے بارے میں کوئی واضح معلومات سامنے نہیں آئیں، امید ہے جب ملزمان کو جسمانی ریمانڈ کے لیے عدالت میں پیش کیا جائے گا تو یہ بات واضح ہو جائے گی کہ اب تک کون کون سے شواہد اکٹھے کیے جا چکے ہیں اور تفتیش کس سمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔

رکن قومی اسمبلی کا کہنا ہے کہ اگر ان بنیادی اور ناگزیر شواہد کو کیس فائل کا حصہ نہیں بنایا گیا تو یہ ایک سنگین سوال کو جنم دے گا کہ آیا تفتیش مکمل، مؤثر اور غیر جانبدارانہ انداز میں کی جا رہی ہے یا نہیں، ایسے مقدمات میں سائنسی شہادتیں اکثر فیصلہ کن حیثیت رکھتی ہیں، اس لیے ان میں کسی قسم کی کوتاہی انصاف کے تقاضوں پر سوال اٹھا سکتی ہے، میری رائے میں متاثرہ فریق کو چاہیے کہ وہ صرف سرکاری استغاثہ پر انحصار نہ کرے بلکہ اپنا تجربہ کار اور باصلاحیت وکیل بھی مقرر کرے، جو ہر مرحلے پر تفتیش اور عدالتی کارروائی کی نگرانی کرے، ضروری درخواستیں بروقت دائر کرے اور کسی بھی ممکنہ قانونی یا تفتیشی کوتاہی کی نشاندہی کرے۔

شیر افضل مروت کہتے ہیں کہ یہ ابتدائی چند دن انتہائی فیصلہ کن ہوتے ہیں، بہت سے مادی، فرانزک اور ڈیجیٹل شواہد وقت گزرنے کے ساتھ ضائع، تبدیل یا ناقابلِ حصول ہو سکتے ہیں، اور ایک بار ایسا ہو جائے تو بعد میں انہیں دوبارہ حاصل کرنا تقریباً ناممکن ہوتا ہے، اسی لیے شفاف، فوری، مکمل اور سائنسی بنیادوں پر تفتیش ہی اس مقدمے میں انصاف کی واحد ضمانت ہو سکتی ہے، میری ہمدردیاں متاثرہ خواتین کے ساتھ ہیں، اور میری واحد خواہش یہ ہے کہ تفتیش قانون، شواہد اور انصاف کے تقاضوں کے مطابق انجام پائے تاکہ جو بھی حقیقت ہے، وہ پوری دیانت داری کے ساتھ عدالت کے سامنے آسکے۔