ترکی میں انسانی حقوق کے مسائل پر نیٹو اتحادی خاموش کیوں؟

DW ڈی ڈبلیو اتوار 5 جولائی 2026 13:20

ترکی میں انسانی حقوق کے مسائل پر نیٹو اتحادی خاموش کیوں؟

اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 05 جولائی 2026ء) سن 2021 میں امریکہ، فرانس، جرمنی اور کینیڈا سمیت 10 مغربی ممالک کے سفیروں نے سماجی کارکن عثمان کاوالا کی رہائی کا مطالبہ کیا تھا، جنہیں وہ سیاسی قیدی قرار دیتے تھے۔ اس پر ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے شدید ردعمل ظاہر کرتے ہوئے ان سفیروں کو ملک بدر کرنے کا حکم دے دیا تھا، حالانکہ دو روز کی سفارتی کشیدگی کے بعد معاملہ ٹھنڈا پڑ گیا۔

اس کے بعد، خصوصاً 2022 میں روس کے یوکرین پر حملے کے بعد سے، یورپی ممالک نے ترکی میں انسانی حقوق اور شہری آزادیوں سے متعلق عوامی تنقید میں نمایاں کمی کر دی اور خطے کی اہم فوجی طاقت کے ساتھ دفاعی تعلقات کو ترجیح دینا شروع کر دی۔

نیٹو سربراہی اجلاس میں تنقید کا امکان نہیں

یہ پالیسی 7 اور 8 جولائی کو انقرہ میں ہونے والے نیٹو کے 32 رکن ممالک کے سربراہی اجلاس میں بھی نمایاں نظر آنے کی توقع ہے۔

(جاری ہے)

مغربی اور ترک سفارت کاروں کے مطابق اجلاس میں ترکی کی مرکزی اپوزیشن جماعت ریپبلکن پیپلز پارٹی کے خلاف جاری قانونی کارروائیوں، جماعت کے رہنماؤں کی گرفتاریوں یا استنبول کے میئر اور سابق صدارتی امیدوار اکرم امام اولو کی قید پر کھلی تنقید کیے جانے کا امکان نہیں۔

ناقدین کی تشویش

ترک حکومت کے ناقدین کا کہنا ہے کہ مغربی ممالک کی خاموشی صدر ایردوآن کی حکومت کے بڑھتے ہوئے آمرانہ رجحانات کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے، اپوزیشن کو تنہا کر رہی ہے اور نیٹو کے جمہوریت اور قانون کی حکمرانی جیسے بنیادی اصولوں کو بھی نظر انداز کر رہی ہے۔

امریکہ کے سابق سفیر ڈیوڈ سیٹر فیلڈ نے روئٹرز کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ مغربی ممالک کے لیے ضروری ہے کہ وہ ترکی میں جمہوری اداروں کی کمزوری پر آواز اٹھاتے رہیں۔

انہوں نے کہا، ''یہ اہم ہے کہ ترک عوام بھی بیرونی دنیا کی جانب سے اپنے نظام کے بارے میں ایسے تبصرے سنتے رہیں۔‘‘

عثمان کاوالا کا مقدمہ

عثمان کاوالا تقریباً نو برس سے جیل میں ہیں اور ان پر حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کا الزام ہے، جس کی وہ تردید کرتے ہیں۔

یورپی عدالت برائے انسانی حقوق اس مقدمے میں قرار دے چکی ہے کہ شواہد ناکافی ہیں اور کاوالا سمیت دیگر ملزمان کو رہا کیا جانا چاہیے، جبکہ ان کی گرفتاری کا مقصد انہیں خاموش کرانا تھا۔

تاہم صدر ایردوآن کی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہتی ہے کہ ترکی کی عدلیہ مکمل طور پر آزاد ہے اور عدالتوں پر سیاسی طور پر اثر انداز ہونے کا تاثر درست نہیں۔

نیٹو اجلاس سے قبل گرفتاریاں اور پابندیاں

نیٹو اجلاس سے قبل انسانی حقوق کی تنظیموں نے اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی ہے کہ درجنوں آزاد میڈیا اداروں کے صحافیوں کو اجلاس کی کوریج کی اجازت نہیں دی گئی، جبکہ سکیورٹی خدشات کے نام پر 200 سے زائد افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔

نیٹو اتحاد نے اس معاملے میں کہا ہے کہ میڈیا کے لیے منظوری سے متعلق فیصلوں میں وہ میزبان ملک کی رہنمائی پر انحصار کرتا ہے، تاہم صحافیوں کی ذاتی طور پر اجلاس میں شرکت کو اہم قرار دیتا ہے۔

ترکی کی بڑھتی ہوئی اسٹریٹیجک اہمیت

نیٹو اتحادی اب ترکی کو، جس کے پاس اس اتحاد کی دوسری سب سے بڑی فوج موجود ہے اور جو مسلح ڈرونز کا اہم برآمد کنندہ ملک بھی ہے، روس کے خلاف جنوب مشرقی محاذ پر ایک اہم دفاعی شراکت دار کے طور پر دیکھتے ہیں۔

وارسا میں قائم سینٹر فار ایسٹرن اسٹڈیز کے ماہر کارول واسیلیئفسکی کے مطابق مغربی ممالک اب بڑی حد تک اقدار کے بجائے عملی مفادات کو ترجیح دے رہے ہیں کیونکہ انہیں احساس ہے کہ یورپ کے دفاع کے لیے ترکی ناگزیر حیثیت اختیار کر چکا ہے۔

ان کے بقول انقرہ بھی جانتا ہے کہ اپوزیشن کے خلاف کارروائیوں سمیت دیگر معاملات پر مغربی تنقید محدود رہے گی اور اس کے نتیجے میں کوئی عملی اقدام نہیں کیا جائے گا۔

ادارت: مقبول ملک