رضا ڈار کیس کی ایف آئی آر میں نامزد ’باس‘ کا اصل کردار بے نقاب، سابقہ ریکارڈ یافتہ ہونے کا انکشاف

ملزم پر 2020ء میں قتل کے سنگین الزامات عائد ہوئے تھے جس کا باقاعدہ مقدمہ بھی درج ہے، اس کے علاوہ مختلف تھانوں میں مزید 2 سے 3 دیگر سنگین مقدمات بھی درج ہونے کی اطلاعات

Sajid Ali ساجد علی اتوار 5 جولائی 2026 15:21

رضا ڈار کیس کی ایف آئی آر میں نامزد ’باس‘ کا اصل کردار بے نقاب، سابقہ ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جولائی 2026ء) لاہور ڈیفنس غیر ملکی خواتین کے اغواء اور مبینہ جنسی زیادتی کے کیس کی ایف آئی آر میں نامزد پراسرار کردار 'باس' (Boss) کا اصل چہرہ اور مجرمانہ ریکارڈ سامنے آ گیا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق اس کیس میں جس شخص کو 'باس' کے نام سے پکارا گیا، اس کا اصل نام وحید ہے، ملزم وحید پولیس ریکارڈ میں ایک انتہائی خطرناک اور نامی گرامی مجرم ہے، سال 2020ء میں اس پر قتل کے سنگین الزامات عائد ہوئے تھے جس کا باقاعدہ مقدمہ بھی درج ہے، اس کے علاوہ ملزم وحید کے خلاف مختلف تھانوں میں مزید 2 سے 3 دیگر سنگین مقدمات بھی درج ہیں۔

انکشاف ہوا ہے کہ ملزم وحید ان لڑکوں کے گروپ میں خود کو ایک 'ڈان' کے طور پر متعارف کرواتا تھا، اسی چیز کا فائدہ اٹھاتے ہوئے رضا ڈار نے تفتیش اور لڑکیوں کو گمراہ کرنے کے لیے اسے ایک فرضی اور بڑے نیٹ ورک کے سربراہ یعنی 'باس' کا نام دیا تھا تاکہ لڑکیوں پر یہ تاثر جمایا جا سکے کہ ان کا سامنا لاہور کے کسی بہت بڑے اور بااثر کریمینل ڈان سے ہے۔

(جاری ہے)

بتایا گیا ہے کہ ملزم وحید مبینہ واردات کے وقت اکیلا نہیں تھا بلکہ وہ اپنے ساتھ متعدد مسلح لڑکے بطور 'گن مین' لے کر آیا ہوا تھا تاکہ ان غیر ملکی لڑکیوں پر بندوق کے زور پر خوف و ہراس طاری کیا جا سکے، اسی گینگسٹر اور اسلحہ کے تھریٹ کے سائے میں ان لڑکیوں کو ڈرایا دھمکایا گیا اور اس کے ساتھ موجود بندوں نے مبینہ طور پر غیر ملکی لڑکیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

معلوم ہوا ہے کہ ملزمان کے اسی شدید ترین خوف، اسلحے کے دباؤ اور تشدد کے ماحول کے دوران ہی لڑکیوں میں سے ایک نے اپنے والد سے رابطہ کیا، سنگین صورت حال کو بھانپتے ہوئے متاثرہ لڑکی کے والد کی جانب سے فوری طور پر اپنے ملک کی پولیس، پاکستان میں قائم اپنے سفارت خانے اور لاہور پولیس کے اعلیٰ حکام سے رابطہ قائم کیا گیا، جس کے بعد پولیس حرکت میں آئی۔