نجی پراپرٹی سے فائبر بچھانے کیلئے مالک کی اجازت لازمی قرار

ٹیلی کام بل سے کسی کی ذاتی جائیداد پر زبردستی قبضہ نہیں ہوگا، ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ کا بل 6 ترامیم کے ساتھ منظور ہوا؛ وفاقی وزراء شزا خواجہ اور اعظم نذیر تارڑ کی پریس کانفرنس

Sajid Ali ساجد علی اتوار 5 جولائی 2026 13:17

نجی پراپرٹی سے فائبر بچھانے کیلئے مالک کی اجازت لازمی قرار
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 05 جولائی 2026ء) وفاقی وزیر برائے انفارمیشن اینڈ ٹیکنالوجی شزا فاطمہ خواجہ نے واضح کیا ہے کہ نئے ٹیلی کام بل کے ذریعے کسی بھی شہری کی ذاتی زمین یا جائیداد پر کوئی زبردستی قبضہ نہیں کیا جائے گا، بلکہ نجی پراپرٹیز کے حوالے سے باقاعدہ کیٹگریز طے کی جائیں گی۔ وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے ہمراہ ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے وفاقی وزیر شزا فاطمہ کا کہنا تھا کہ ٹیلی کام بل پر مالی بے ضابطگیوں اور دیگر قسم کے لگائے گئے تمام الزامات بالکل بے بنیاد ہیں، اس سلسلے میں میں نے خود وزیراعظم سے درخواست کی ہے کہ اس بل کے حوالے سے سامنے آنے والے تمام الزامات کی باقاعدہ انکوائری یعنی تحقیقات کرائی جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ اس نئے ٹیلی کام بل کا بنیادی مقصد ملک بھر میں تیز رفتار انٹرنیٹ کی فراہمی کو ممکن بنانا ہے، اور اس مقصد کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کے اتفاقِ رائے سے قانون سازی کی جا رہی ہے۔

(جاری ہے)

اس موقع پر وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ بل کے تحت کسی بھی نجی پراپرٹی سے انٹرنیٹ فائبر بچھانے کے لیے اس کے مالک کی باقاعدہ اجازت حاصل کرنا لازم ہوگا، ٹیلی کمیونیکیشن ایکٹ کا یہ بل 6 اہم ترامیم کے ساتھ منظور کیا گیا ہے، متعلقہ کمیٹی کو تفتیش کے دوران کسی بھی ایک مخصوص کمپنی کو نوازنے کے کوئی شواہد نہیں ملے، تاہم کمیٹی نے بل میں موجود تمام قانونی سقم اور خامیاں دور کرنے کی سخت ہدایت جاری کی ہے۔