اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 05 جولائی 2026ء) چین کی پہلی خاتون سویلین خلاباز لائی کائی ینگ اس وقت چین کے خلائی اسٹیشن تیان گونگ پر اپنے دو ساتھی خلابازوں کے ساتھ موجود ہیں، جہاں وہ روزانہ زمین کے گرد 16 چکر لگاتی ہیں۔
تیان گونگ ایک جدید مائیکرو گریویٹی تجربہ گاہ ہے، جہاں ایسے سائنسی تجربات کیے جا رہے ہیں جن سے مستقبل میں انسانی خلائی تحقیق کے لیے نئی معلومات حاصل ہونے کی امید ہے۔
ماہرین کے مطابق خلائی تحقیق ایک بار پھر نظریاتی اور جغرافیائی سیاسی مسابقت کا میدان بن چکی ہے، تاہم 20 ویں صدی کی امریکہ اور سوویت یونین کی خلائی دوڑ کے برعکس اب واشنگٹن کا اصل حریف بیجنگ ہے۔
امریکی
خلائی ادارے ناسا نے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کو 2032 تک ریٹائر کرنے کا منصوبہ بنایا ہے۔(جاری ہے)
اس کے بعد چین دنیا کا واحد ملک ہو گا جو مستقل بنیادوں پر اپنے عملے کے ساتھ خلائی اسٹیشن چلا رہا ہو گا۔
جدید سائنسی تحقیق میں چین کی برتری
سائنسی جریدے 'نیچر‘ کے تازہ ترین تحقیقی اشاریے کے مطابق جدید تحقیق میں چین دنیا بھر میں پہلے نمبر پر آ چکا ہے، جبکہ امریکہ دوسرے اور جرمنی تیسرے نمبر پر ہے۔
دنیا
کے 10 سرفہرست تحقیقی اداروں میں سے 9 چین سے تعلق رکھتے ہیں، جبکہ امریکہ کی ہارورڈ یونیورسٹی تیسرے نمبر پر ہے۔ جرمنی کے معروف تحقیقی ادارے ماکس پلانک انسٹیٹیوٹ کو اس فہرست میں 13 واں مقام حاصل ہوا۔ماکس پلانک سوسائٹی کی ترجمان کرسٹینا بیک کے مطابق اب تقریباً تمام عالمی درجہ بندیوں میں چینی یونیورسٹیاں اور تحقیقی ادارے متعدد شعبوں میں قیادت کر رہے ہیں۔
مسلسل سرمایہ کاری سے کامیابی
جرمن
ریسرچ فاؤنڈیشن کے انفارمیشن مینجمنٹ کے سربراہ رچرڈ ہائیڈلر کے مطابق گزشتہ دو دہائیوں میں چین نے سائنسی تحقیق کے شعبے میں مسلسل سرمایہ کاری کی ہے۔انہوں نے کہا کہ ابتدائی برسوں میں تحقیقی مقالات کی تعداد میں اضافہ ہوا، جبکہ گزشتہ دس برسوں میں ان تحقیقات کے معیار اور عالمی اثرات میں بھی نمایاں بہتری آئی ہے۔
ماہرین کے مطابق چین نے یونیورسٹیوں، تحقیقی اداروں، بین الاقوامی تربیت اور جدید تحقیقی انفراسٹرکچر میں طویل المدتی سرمایہ کاری کے ذریعے یہ مقام حاصل کیا ہے۔
چاند پر جانے کی دوڑ میں امریکہ اور چین آمنے سامنے
امریکہ
اور چین اس وقت نئی جنریشن کے مون مشنز کے حوالے سے آپس میں سخت مقابلہ بازی میں مصروف ہیں۔چین
نے 2030 تک انسان بردار قمری مشن بھیجنے کا ہدف مقرر کیا ہے، جبکہ امریکہ کا آرٹیمس پروگرام 2028 میں چاند کے جنوبی قطب کے قریب اپنے خلانورد اتارنے کا منصوبہ رکھتا ہے، تاہم اس منصوبے میں اسے ممکنہ تاخیر کا سامنا ہے۔چین
مستقبل میں جامع خلائی مشنز کے لیے چاند پر اپنا مستقل تحقیقاتی اڈہ بھی قائم کرنا چاہتا ہے۔اسی مقصد کے تحت چین دنیا کا واحد ملک بن چکا ہے جس نے چاند کے دور والے حصے سے چٹانوں کے نمونے حاصل کیے ہیں، جن کا جائزہ مستقبل کی 'قمری بستی‘ کی تعمیر میں ممکنہ استعمال کے لیے لیا جا رہا ہے۔
خلائی پروگرام کے ذریعے سفارتی تعلقات
چین
اپنے خلائی پروگرام کو سفارتی تعلقات مضبوط بنانے کے لیے بھی استعمال کر رہا ہے۔لائی کائی ینگ کے مشن کی تکمیل کے بعد چین رواں سال اکتوبر میں اپنے خلائی اسٹیشن پر پہلے غیر ملکی خلا باز کی میزبانی کرے گا۔
اس مشن کے لیے پاکستان کے دو امیدوار اس وقت تربیت حاصل کر رہے ہیں، جن میں سے ایک کو اس خلائی مشن کے لیے منتخب کیا جائے گا۔
یہ پیش رفت اس بات کی علامت ہے کہ عالمی جغرافیائی اتحاد اب زمین تک محدود نہیں رہے اور چین اپنے قریبی شراکت دار ممالک کو بھی اپنے بڑھتے ہوئے خلائی پروگرام کا حصہ بنا رہا ہے۔
ادارت: مقبول ملک