دولت کے لالچ میں حقیقی بچوں نے باپ کو پاگل خانے بھجوادیا، لے پالک بیٹا بازیابی کیلئے عدالت پہنچ گیا

لاہور ہائیکورٹ کے معزز جج جسٹس فاروق حیدر کی جانب سے حبسِ بے جا کی اس درخواست پر سماعت کی گئی

Sajid Ali ساجد علی جمعرات 9 جولائی 2026 12:00

دولت کے لالچ میں حقیقی بچوں نے باپ کو پاگل خانے بھجوادیا، لے پالک بیٹا ..
لاہور (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 09 جولائی 2026ء) لاہور ہائیکورٹ میں ایک ایسے کیس کی سماعت ہوئی ہے جس میں حقیقی بچوں نے جائیداد ہتھیانے کے لیے اپنے ہی والد کو زبردستی ذہنی مریضوں کے بحالی سینٹر میں داخل کروا دیا، تاہم ایک لے پالک بیٹے کی جانب سے عدالتِ عالیہ سے رجوع کرنے پر معمر شہری کو بازیاب کروا لیا گیا۔ کورٹ رپورٹر محمد اشفاق کے مطابق معمر شہری کے لے پالک بیٹے نے اپنے والد کی غیر قانونی قید اور زندگی کو لاحق خطرات کے پیشِ نظر لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا اور اپنے باپ کو بازیاب کروانے کے لیے حبسِ بے جا کی درخواست دائر کی۔

بتایا گیا ہے کہ درخواست گزار نے عدالت کے سامنے مؤقف اختیار کیا کہ معمر شہری کے حقیقی بچوں کو دولت کا لالچ اندھا کر چکا ہے، انہوں نے جائیداد کے چکر میں اپنے ہی سگے والد کو ذہنی مریض قرار دے کر ایک ذہنی مریضوں کے بحالی سینٹر میں زبردستی داخل کروا دیا ہے تاکہ وہ ان کی مرضی کے بغیر اپنی جائیداد کے فیصلے نہ کرسکیں۔

(جاری ہے)

معلوم ہوا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ کے معزز جج جسٹس فاروق حیدر نے حبسِ بے جا کی اس درخواست پر فوری سماعت کی اور انتظامیہ کو سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے عدالتِ عالیہ نے مغوی معمر شہری کو مذکورہ بحالی سینٹر سے فوری طور پر بازیاب کروا کر آزاد اور رہا کرنے کا باقاعدہ حکم جاری کردیا۔