اسلام آباد (اُردو پوائنٹ ۔ DW اردو۔ 09 جولائی 2026ء) بیس فیصد ایتھنول ملا پٹرول، جسے ای 20 کہا جاتا ہے، گزشتہ سال کے آخر میں بھارت کے تقریباً 90 ہزار پٹرول پمپس پر دستیاب واحد پٹرول بنا دیا گیا تھا۔ اس فیصلے پر ابتدا میں شدید عوامی ردِعمل سامنے آیا، تاہم چند ہفتوں بعد یہ معاملہ وقتی طور پر ٹھنڈا پڑ گیا۔
لیکن اب یہ تنازع ایک بار پھر اس وقت شدت اختیار کر گیا جب حکومت کے ایک سینئر وکیل نے عدالت میں ای 20 کو ایک 'تجربہ‘ قرار دیا، اگرچہ بعد میں انہوں نے اپنے اس بیان سے رجوع کر لیا۔
اس واقعے کے بعد گاڑیوں کی کارکردگی پر ایندھن کے ممکنہ اثرات اور اس پالیسی کے جلد بازی میں نفاذ سے متعلق خدشات دوبارہ سامنے آ گئے ہیں۔گاڑی
مالکان ایندھن کے انتخاب کا حق مانگ رہے ہیں اور اپوزیشن نے معروف گاڑی ساز کمپنیوں، مثلاﹰ ماروتی سوزوکی اور ٹویوٹا سے اس معاملے پر وضاحت طلب کر لی ہے۔(جاری ہے)
سوشل میڈیا
پلیٹ فارم ایکس پر سینکڑوں گاڑی مالکان نے شکایات کی ہیں کہ ای 20 پٹرول کے استعمال سے ایندھن کی بچت کم ہو گئی ہے، گاڑیوں کے پرزوں پر زیادہ دباؤ پڑ رہا ہے اور انہیں بغیر ایتھنول والا پٹرول خریدنے کا کوئی متبادل بھی دستیاب نہیں۔ایکس صارف آشنا نے لکھا، ''گاڑی بنانے والی کمپنیاں منہ چھپانے کے بجائے واضح طور پر بتائیں کہ کیا 2023 سے پہلے کے ان کے ماڈلز واقعی ای 20 ایندھن کے لیے موزوں ہیں؟ عوام کو گمراہ کرنا بند کریں۔‘‘
برازیل جیسے ممالک میں ایتھنول کی آمیزش میں کئی دہائیوں کے دوران بتدریج اضافہ کیا گیا، جبکہ امریکہ میں عام پٹرول میں ایتھنول کی مقدار اب بھی ای 10 تک محدود ہے اور اس سے زیادہ آمیزش والا ایندھن صرف ان گاڑیوں کے لیے دستیاب ہے جو اس کے مطابق تیار کی گئی ہیں۔
جلد بازی میں کیا گیا فیصلہ
بھارت
میں 2025 کے دوران پورے ملک میں ای 10 کی جگہ ای 20 نافذ کر دیا گیا، حالانکہ اس کا ہدف 2030 تک حاصل کیا جانا تھا اور ای 20 کے مطابق تیار کردہ گاڑیاں صرف 2023 سے مارکیٹ میں آنا شروع ہوئی تھیں۔منگل کو اپوزیشن رہنما اور دہلی کے سابق وزیرِاعلیٰ اروند کیجریوال نے پریس کانفرنس میں ماروتی سوزوکی اور ٹویوٹا کی گاڑیوں کے مالکانہ ہدایت نامے دکھاتے ہوئے کہا کہ کئی پرانے ماڈلز صرف ای 10 پٹرول کے لیے موزوں قرار دیے گئے ہیں۔
کیجریوال نے کہا، ''لوگ صرف ایک چیز مانگ رہے ہیں، ہمیں کم از کم پٹرول کے انتخاب کا حق دیا جائے۔‘‘
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے ٹویوٹا سمیت دیگر کمپنیوں کو خطوط لکھ کر وضاحت طلب کی ہے کہ آیا ان کی گاڑیاں ای 20 ایندھن کے لیے موزوں ہیں یا نہیں۔ یہ خطوط انہوں نے بدھ کو ایکس پر بھی جاری کیے۔
ماروتی سوزوکی اور ٹویوٹا نے اس معاملے پر تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔
معاملہ غیر واضح
خبر رساں ادارے روئٹرز نے اس سے قبل ایک رپورٹ میں کہا تھا کہ بھارت میں 2024 میں خریدی گئی ایک کار آؤڈی کیو تھری کی فیول ٹینک کیپ اور صارف ہدایت نامے میں صرف ای 5 اور ای 10 پٹرول استعمال کرنے کی سفارش درج تھی۔
اسی طرح 2024 ماڈل مہندرا اسکارپیو ایس یو وی کے فیول ٹینک پر ایک انتباہی اسٹیکر بھی چسپاں تھا، جس پر لکھا تھا، ''احتیاط ۔
صرف پٹرول/ای 10 ایندھن استعمال کریں۔‘‘مہندرا نے اپنے بیان میں کہا کہ اس کی ای 20 کے مطابق تیار کردہ گاڑیاں یہ ایندھن استعمال کر سکتی ہیں، تاہم کمپنی نے پرانے ماڈلز کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی۔
گزشتہ چند روز سے ای 20 ایندھن کا معاملہ بھارت میں ٹی وی مباحثوں اور اخباری اداریوں کا اہم موضوع بنا ہوا ہے۔
حکومتی وزیر نے تنقید کو چیلنج کر دیا
حکومت کا مؤقف ہے کہ ای 20 پالیسی سے خام تیل کی درآمدات میں کمی آئے گی، گنے کے کاشتکاروں کو فائدہ ہو گا کیونکہ ایتھنول گنے سے تیار کیا جاتا ہے، اور فضائی آلودگی میں بھی کمی ہو گی۔
اس ہفتے ایک وکیل نے سپریم کورٹ میں اس پالیسی کے خلاف نئی عوامی مفاد کی درخواست بھی دائر کی ہے، تاہم یہ واضح نہیں کہ عدالت گزشتہ سال اسی نوعیت کی درخواستیں مسترد کرنے کے بعد اس نئے مقدمے کی سماعت کرے گی یا نہیں۔
حکومت اور سرکاری تیل کمپنیاں عوامی خدشات دور کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔
منگل کو بھارتی وزیرِ ٹرانسپورٹ نتن گڈکری نے کہا کہ وہ ہر اس شخص کو چیلنج کرتے ہیں جو یہ ثابت کر دے کہ اس کی گاڑی کو ای 20 ایندھن استعمال کرنے سے نقصان پہنچا ہے۔
نئی دہلی سے تعلق رکھنے والے کاروباری شخصیت اور اپوزیشن کانگریس پارٹی کے حامی تحسین پونا والا نے اس معاملے پر وزیر کے ساتھ عوامی مکالمے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ایسے متاثرہ صارفین کو بھی ساتھ لائیں گے جو اپنے تجربات بیان کر سکیں۔
ادارت: کشور مصطفیٰ