Live Updates

امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا، دوطرفہ حملے دوسرے دن میں داخل

DW ڈی ڈبلیو جمعرات 9 جولائی 2026 12:00

امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا، دوطرفہ حملے دوسرے ..
  • پاکستانی ریسکیورز نے گمشدہ کارگو طیارے کا ملبہ تلاش کر لیا، لاپتہ عملے کی تلاش جاری
  • امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا، دوطرفہ حملے دوسرے دن میں داخل

امریکہ اور ایران کے درمیان تنازع شدت اختیار کر گیا، دوطرفہ حملے دوسرے دن میں داخل

آبنائے ہرمز، جو دنیا میں تیل کی ترسیل کے لیے نہایت اہم بحری گزرگاہ سمجھی جاتی ہے، مشرقِ وسطیٰ کی جنگ میں ایک حساس مرکز بنی ہوئی ہے۔

تہران کا مؤقف ہے کہ آبنائے ہرمز پر اس کا کنٹرول برقرار رہے گا، حالانکہ فروری میں امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے قبل یہ آبی گزرگاہ بین الاقوامی جہاز رانی کے لیے آزاد تھی۔

بدھ کے روز دونوں ممالک کے درمیان حملوں کے تبادلے کے بعد امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی ’ختم ہو چکی ہے‘، تاہم انہوں نے مزید مذاکرات کا امکان بھی مسترد نہیں کیا اور کہا کہ اگر مزید حملے ہوئے تو ان کا جواب فوری اور مختصر ہو گا۔

(جاری ہے)

امریکی افواج کے مطابق تازہ حملوں کا مقصد ایران کی ’’آبنائے ہرمز میں آزادانہ بحری آمدورفت کو خطرے میں ڈالنے کی صلاحیت‘‘ کو نشانہ بنانا تھا۔ امریکی حکام نے الزام عائد کیا کہ ایران نے حالیہ دنوں میں اس آبی گزرگاہ سے گزرنے والے تجارتی جہازوں کو نشانہ بنایا۔

امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے بتایا کہ ایران میں تقریباً 90 فوجی اہداف کو نشانہ بنایا گیا، جن میں میزائل اور ڈرون ذخائر کے علاوہ ساحلی علاقوں میں قائم فوجی لاجسٹک مراکز بھی شامل تھے۔

ایران کا موقف

ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق جنوب مغربی ایران کے شہر اہواز کے نواحی علاقے میں ہونے والے امریکی حملوں میں تین افراد ہلاک جبکہ متعدد زخمی ہوئے۔ یہ معلومات ایک مقامی عہدیدار کے حوالے سے جاری کی گئیں۔

ایران نے بھی فوری جوابی کارروائی کرتے ہوئے پاسدارانِ انقلاب اسلامی (آئی آر جی سی) کے ذریعے اعلان کیا کہ اس نے کویت میں امریکی اڈوں عارف جان اور علی السالم، جبکہ بحرین میں جفیر اور شیخ عیسیٰ کے فوجی مراکز میں ’’اہم تنصیبات اور بنیادی ڈھانچے‘‘ کو نشانہ بنایا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے ایک صحافی کے مطابق بحرین کے دارالحکومت منامہ میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں، جبکہ کویت نے اعلان کیا کہ اس کی فضائی دفاعی فورسز نے ’’دشمن کے میزائل اور ڈرون حملوں‘‘ کو ناکام بنا دیا۔

متعدد سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق امریکی حملوں میں شمال مشرقی ایران میں ایک ریلوے پل کو بھی نشانہ بنایا گیا، جبکہ ارنا نے رپورٹ کیا کہ ساحلی شہر بوشہر میں واقع ایک فوجی اڈے پر بھی حملہ کیا گیا۔

بوشہر میں ایران کا واحد سول جوہری بجلی گھر بھی واقع ہے۔

کشیدگی میں اضافہ ہونے کا خدشہ

اس سے قبل ایران کے جزیرۂ کیش پر جنگی طیاروں کی پروازیں دیکھی گئیں، جبکہ بندر عباس، کنارک اور چابہار کی بندرگاہی شہروں میں دھماکے ہوئے۔ ارنا کے مطابق ان حملوں کے باعث بعض علاقوں میں بجلی کی فراہمی بھی متاثر ہوئی۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بدھ کے روز اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ٹروتھ سوشل’ پر جاری بیان میں کہا، ’’یہ کارروائی ایران کی جانب سے گزشتہ روز جہازوں پر بمباری کے جواب میں کی گئی ہے۔

اگر ایسا دوبارہ ہوا تو اس کے نتائج کہیں زیادہ سنگین ہوں گے۔‘‘

بعد ازاں ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی حکام نے ’’کچھ دیر قبل رابطہ کیا تھا‘‘ اور وہ ’’معاہدہ کرنے کے لیے بیتاب ہیں۔‘‘

تاہم امریکی صدر نے یہ نہیں بتایا کہ رابطہ کس شخصیت نے کیا تھا یا بات چیت میں کون شامل تھا۔

انہوں نے ممکنہ معاہدے کی اہمیت پر بھی شکوک کا اظہار کرتے ہوئے ایرانی قیادت کو ’’کسی حد تک غیر متوازن‘‘ قرار دیا۔

ایران اور امریکہ کے درمیان حملوں کا سلسلہ دوبارہ شروع ہونے سے مشرق وسطیٰ میں ایک مرتبہ پھر سے صورت حال کشیدہ دکھائی دے رہی ہے۔ یہ حملے ایسے وقت پر ہوئے ہیں جب ایران میں سابق سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کی آخری رسومات جاری ہیں جن کا اختتام جمعرات کو مشہد میں ان کی تدفین کے ساتھ ہو گا۔

ادارت: کشور مصطفیٰ

Live ایران امریکا کشیدگی سے متعلق تازہ ترین معلومات