105 جان بچانے والی ادویات کی قلت سنگین، ہزاروں مریض بروقت علاج سے محروم ہونے لگے

قیمتوں میں نظرثانی کی سمری دو برس سے وفاقی کابینہ میں زیر التوا، ادویہ ساز کمپنیوں نے پیداوار محدود کردی، اسمگل شدہ اور جعلی ادویات کے پھیلاؤ کا خدشہ بڑھ گیا

بدھ 15 جولائی 2026 04:40

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 15 جولائی2026ء) ملک بھر میں کینسر، دل کے امراض، ذیابیطس، بچوں کی بیماریوں اور دیگر جان لیوا امراض کے علاج میں استعمال ہونے والی 105 سے زائد ضروری ادویات کی شدید قلت نے صحت کے شعبے میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے۔ ادویات کی عدم دستیابی کے باعث ہزاروں مریض بروقت علاج سے محروم ہو رہے ہیں، جبکہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اگر صورتحال پر فوری قابو نہ پایا گیا تو مریضوں کی زندگیاں مزید خطرے سے دوچار ہو سکتی ہیں۔

پاکستان کیمسٹ اینڈ ڈرگسٹ ایسوسی ایشن کے چیئرمین عبدالصمد بڈھانی نے نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے تقریباً دو سال قبل 105 ضروری ادویات کی قیمتوں میں نظرثانی کی سفارشات منظور کر کے وفاقی حکومت کو بھجوا دی تھیں، تاہم یہ معاملہ تاحال وفاقی کابینہ میں زیر التوا ہے، جس کے باعث ادویات کی فراہمی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔

(جاری ہے)

انہوں نے کہا کہ خام مال، بجلی، گیس، پیکیجنگ، ٹرانسپورٹ اور دیگر پیداواری اخراجات میں نمایاں اضافے کے بعد موجودہ سرکاری نرخوں پر متعدد ادویات تیار کرنا ادویہ ساز کمپنیوں کے لیے معاشی طور پر ممکن نہیں رہا۔ اسی وجہ سے کئی کمپنیوں نے ان ادویات کی پیداوار محدود کر دی ہے یا مکمل طور پر بند کر دی ہے، جس کے نتیجے میں مارکیٹ میں قلت پیدا ہو گئی ہے۔

عبدالصمد بڈھانی کے مطابق قلت کا شکار ادویات میں کینسر کی کیموتھراپی، انسولین، دل کے دورے کے علاج، شدید درد، بچوں کی مختلف بیماریوں، آنکھوں کے امراض، ویکسینز اور دیگر لائف سیونگ ادویات شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈریپ کی پرائسنگ کمیٹی تقریباً 100 ضروری ادویات اور 45 نئے کیمیکل پر مبنی ادویات کی قیمتوں کی منظوری دے چکی ہے، لیکن یہ فیصلے وفاقی کابینہ کی منظوری کے منتظر ہیں۔

انہوں نے خبردار کیا کہ نئی اور مؤثر کینسر ادویات کی منظوری میں تاخیر کے باعث مریض اسمگل شدہ ادویات خریدنے پر مجبور ہو رہے ہیں، جس سے جعلی اور غیر معیاری ادویات کے پھیلاؤ کا خطرہ بھی بڑھ گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حال ہی میں کراچی میں کارروائی کے دوران اسمگل شدہ کینسر ادویات بھی برآمد کی گئی تھیں، جو اس مسئلے کی سنگینی کو ظاہر کرتی ہیں۔

عبدالصمد بڈھانی نے بتایا کہ وفاقی وزیر صحت مصطفیٰ کمال نے جعلی ادویات کی روک تھام کے لیے ملک بھر میں **کیو آر کوڈ سسٹم** متعارف کرانے کی یقین دہانی کرائی ہے، جس کے ذریعے مریض ادویات کی اصلیت، قیمت اور قانونی حیثیت کی تصدیق کر سکیں گے۔انہوں نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا کہ جان بچانے والی ادویات کی قیمتوں اور منظوری سے متعلق زیر التوا فیصلوں کو ہنگامی بنیادوں پر نمٹایا جائے تاکہ ادویات کی مسلسل قلت کا خاتمہ ہو، مریضوں کو بروقت علاج میسر آئے اور جعلی و اسمگل شدہ ادویات کی حوصلہ شکنی کی جا سکے۔