پاکستان میں روئی کی پیداوار نصف سے بھی کم، معیشت کو سالانہ 2 سے 3 ارب ڈالر نقصان کا خدشہ

غیر مستقل زرعی پالیسیاں، موسمیاتی تبدیلی اور ناقص بیج پیداوار میں کمی کی بڑی وجوہات قرار،او آئی سی سی آئی کی سیڈز آف گروتھ رپورٹ

بدھ 22 جولائی 2026 21:10

کراچی(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - این این آئی۔ 22 جولائی2026ء) اوورسیز انویسٹرز چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (او آئی سی سی آئی) نے خبردار کیا ہے کہ پاکستان میں روئی کی پیداوار اپنے عروج کے مقابلے میں نصف سے بھی کم رہ گئی ہے، جس کے باعث ملک کو اضافی درآمدات اور برآمدی آمدنی میں کمی کی صورت میں سالانہ 2 سے 3 ارب ڈالر کے معاشی نقصان کا سامنا ہے۔

او آئی سی سی آئی کی جانب سے جاری کردہ "سیڈز آف گروتھ" رپورٹ، جو زرعی شعبے سے وابستہ رکن کمپنیوں کی آراء اور مشاہدات پر مبنی ہے، میں کہا گیا ہے کہ زرعی شعبہ ملکی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں تقریباً 23 فیصد حصہ ڈالتا ہے اور 37 فیصد افرادی قوت کو روزگار فراہم کرتا ہے، تاہم جدید ٹیکنالوجی کی کمی سے زیادہ غیر مستقل حکومتی پالیسیاں اور ریگولیٹری منظوریوں میں تاخیر زرعی ترقی میں بڑی رکاوٹ بن رہی ہیں۔

(جاری ہے)

رپورٹ کے مطابق پاکستان میں کپاس کی پیداوار، جو اپنے عروج کے دور میں تقریباً ایک کروڑ 40 لاکھ گانٹھوں تک پہنچ گئی تھی، مالی سال 2025-26 کے دوران کم ہو کر تقریباً 68 لاکھ 50 ہزار گانٹھیں رہ گئی، جو حکومت کے ایک کروڑ گانٹھوں کے مقررہ ہدف سے 34 فیصد کم ہے۔رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ موسمیاتی تبدیلی، کیڑوں کے حملے، ناقص معیار کے بیجوں کا استعمال اور بعض زرعی ادویات کے اجزا پر مناسب سائنسی متبادل فراہم کیے بغیر عائد کی جانے والی پابندیاں کپاس کی پیداوار میں مسلسل کمی کی اہم وجوہات ہیں۔

او آئی سی سی آئی کے مطابق پاکستان کا ٹیکسٹائل شعبہ ملکی مجموعی برآمدات کا تقریباً 60 فیصد فراہم کرتا ہے اور اس کا انحصار مقامی کپاس پر ہے۔ اگر روئی کی پیداوار کو دوبارہ 80 سے 90 لاکھ گانٹھوں تک بحال کیا جائے تو نہ صرف درآمدی انحصار کم ہوگا بلکہ زرمبادلہ کے ذخائر پر دباؤ میں بھی نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے۔رپورٹ میں مکئی کے شعبے کی استعداد پر بھی روشنی ڈالتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں کے دوران ہائبرڈ بیجوں کے استعمال سے فی ایکڑ پیداوار میں تین گنا اضافہ ہوا، تاہم وفاقی کابینہ سے منظور شدہ قومی بائیوٹیکنالوجی پالیسی پر تاحال عمل درآمد شروع نہ ہونے کے باعث جدید بائیوٹیک ہائبرڈ بیجوں کی دستیابی میں تاخیر ہو رہی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اس تاخیر کے نتیجے میں مکئی اور جانوروں کے چارے کی اربوں ڈالر مالیت کی ممکنہ برآمدات کے مواقع بھی متاثر ہو رہے ہیں، جبکہ زرعی شعبے میں پالیسیوں کے تسلسل، جدید ٹیکنالوجی کے فروغ اور بروقت ریگولیٹری منظوریوں کو ملکی زرعی ترقی اور برآمدات میں اضافے کے لیے ناگزیر قرار دیا گیا ہے۔